حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی کامیاب حج آپریشن پر سعودی قیادت کی تحسین

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے حج سیزن 1447ھ کے کامیاب انتظام پر سعودی مملکت کی قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اورخادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود اور ولی عہد ووزیر اعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دور اندیش قیادت سے ممکن ہوا جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔

اسلام آباد۔30مئی (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے حج سیزن 1447ھ کے کامیاب انتظام پر سعودی مملکت کی قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اورخادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود اور ولی عہد ووزیر اعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دور اندیش قیادت سے ممکن ہوا جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔

ہفتہ کو جاری اپنے ایک بیان میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اس سال کے حج کی کامیابی سعودی قیادت کے حرمین شریفین کی خدمت کے لیے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے جو ہر سال مقدس مقامات کا سفر کرنے والے لاکھوں عازمین کی خدمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی رہنمائی میں جامع منصوبہ بندی، مسلسل نگرانی اور بہترین حج خدمات کے نتیجے میں حالیہ برسوں میں رواں سال سب سے زیادہ کامیاب حج ہے۔حج 1447 ہجری کا کامیاب انعقاد ایک قابل ذکر اور لائق تحسین کارنامہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کی رحمتوں، خادم حرمین شریفین کی ہدایات اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن، لگن اور چوبیس گھنٹے حج کے تجربے کے ہر پہلو کو مسلسل بہتر بنانے کے لیے نگرانی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے خاص طور پر حج کے دوران کراؤڈ مینجمنٹ حکمت عملی کی تعریف کی اور اسے بین الاقوامی سطح کی حکمت عمل کا نمونہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ حجاج کی نقل و حرکت کے انتظام کے لیے آپریشنل منصوبہ مؤثر ہجوم کے انتظام کی عالمی سطح کی مثال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک جامع نظام کا حصہ تھا جسے غیر معمولی درستگی، پیشہ ورانہ مہارت اور تفصیل پر پوری توجہ کے ساتھ عمل میں لایا گیا ۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے سعودی عرب میں حجاج کی آمد سے لے کر مقدس رسومات کی تکمیل کے بعد روانگی تک ان کی حفاظت، راحت اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے پروگراموں، بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو بڑھانے کے لیے مملکت کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔انہوں نے مکہ روٹ انیشیٹو کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے نے حجاج کرام کے لیے سفری طریقہ کار کو بہت آسان بنایا ہے اور مختلف ممالک سے ہزاروں حج کے شرکاء کو بے مثال سہولت فراہم کی ہے۔مکہ روٹ انیشیٹو حجاج کی خدمت کرنے والے کامیاب ترین پروگراموں میں سے ایک بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے مثبت اثرات کو حجاج کرام اور شریک ممالک نے یکساں طور پر تسلیم کیا ہے۔پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین نے حجاج کرام کی خدمت کرنے والے تمام سعودی اداروں بشمول شہزادہ، وزراء، سرکاری اداروں، فوجی اور سول اداروں اور خاص طور پر سکیورٹی فورسز کی بھی تحسین کی ۔انہوں نے سعودی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف بن عبدالعزیز آل سعود کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی حج کمیٹی کو خراج تحسین پیش کیا جن کی مؤثر قیادت سے حج آپریشنز میں شامل تمام وزارتوں اور ایجنسیوں کے درمیان رابطہ کاری ممکن ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارت حج و عمرہ نے خدمات فراہم کرنے والوں اور سکیورٹی حکام کے تعاون سے خدمات کو بہتر بنانے اور حج کے انتظامی ضوابط کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔حج کے ضوابط کے بارے میں پاکستان کی مذہبی رہنمائی کا حوالہ دیتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ دارالافتاء پاکستان نے ایک حکم جاری کیا ہے جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ بغیر سرکاری اجازت کے حج کی ادائیگی اسلامی قانون کے تحت ناجائز ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کی طرف سے جاری کردہ تمام قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ عازمین حج کی حفاظت، سلامتی اور بہتر انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ضوابط کی تعمیل ضروری ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے حاجیوں کی خدمت کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مملکت نے اللہ کے مہمانوں کی خدمت کو ایک مرکزی قومی مشن اور اپنی قیادت اور عوام دونوں کے لیے باعث فخر بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سعودی قیادت کی ہدایت پر کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حجاج کرام کی خدمت ایک عظیم ذمہ داری ہے جس کو پوری سعودی قوم نے قبول کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے نتائج واضح طور پر نظر آ رہے ہیں اور مملکت اپنے وسائل اسلام، مسلمانوں اور حرمین شریفین کے زائرین کی خدمت کے لیے وقف کر رہی ہے۔

اس تاریخی کامیابی پر سعودی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اس سال حج کی کامیابی سعودی ویژن 2030 کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کی واضح عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ایک وژنری اور قابل رہنما کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اصلاحات اور قیادت نے مختلف شعبوں میں مملکت کی ترقی میں خاص طور پر حجاج کرام کے لیے خدمات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے مقدس مقامات پر مؤثر طریقے سے ایک مکمل مربوط جدید شہر کے طور پر کام کیا ہے جو 1.7 ملین سے زائد عازمین کے لیے جدید سہولیات اور خدمات سے لیس تھے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی، ملٹری، میڈیکل، انجینئرنگ اور لاجسٹک ٹیموں سمیت تقریباً نصف ملین اہلکاروں نے تمام شرکاء کی حفاظت، راحت اور حج کی کامیاب تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے انتھک محنت کی۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی صحت و تندرستی اور کامیابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ اللہ تعالی حجاج کرام کے حج اور اعمال صالحہ کو قبول فرمائے اور انہیں بابرکت اور مقبول حج کے ساتھ اپنے گھروں کو بحفاظت واپسی کی توفیق عطا فرمائے۔