فوسپاہ، این سی ایس ڈبلیو کے سربراہوں کا اداروں کے ڈیجیٹل استحکام ،خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمہ کیلئے مربوط کارروائی پر زور

فوسپاہ، این سی ایس ڈبلیو کے سربراہوں کا اداروں کے ڈیجیٹل استحکام ،خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمہ کیلئے مربوط کارروائی پر زور

اسلام آباد۔30مئی (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے ہراسانی فوزیہ وقار اور چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) نورین بانو لہری نے زور دیا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے اداروں کے لئے مناسب وسائل، بیرونی نگرانی کے ساتھ انسداد ہراسانی کی آزاد کمیٹیوں اور مضبوط احتسابی میکانزم کے بغیر تشدد پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔انہوں نے سخت قانون کے نفاذ، ڈیجیٹل گورننس میں اصلاحات، مربوط کارروائی، سائبر ہراسا نی پر قابو پانے، صنفی حساسیت اور غیر قانونی جرگہ نظام کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ فار پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ (فوسپاہ ) اور نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) ملک بھر میں خواتین کے تحفظ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی اجتماعی کوششیں جاری رکھیں گے۔

این سی ایس ڈبلیو کی چیئرپرسن نے ایک مقامی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر بلوچستان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے عدالتوں کے ساتھ انصاف فورمز اور خواتین کے تحفظ کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ خواتین کی انصاف تک رسائی میں رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ فوسپاہ اور این سی ایس ڈبلیو نے صنفی بنیاد پر تشدد کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے، غیر قانونی جرگہ نظام کے خاتمہ اور ملک بھر میں خواتین کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اداروں اور مضبوط وفاقی-صوبائی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ وفاقی محتسب برائے ہراسانی فوزیہ وقار نے کہا کہ صنفی بنیاد پر تشدد اور ہراساں کرنے کے کیسز اب زیادہ باقاعدگی سے رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اداروں کو ان مقدمات کو بروقت آگے بڑھانے کے لیے مناسب وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی جرگہ سسٹمز کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے جب کہ ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ مؤثر طریقے سے جواب دینے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے، جس میں ٹیکنالوجی پر مبنی بہتر میکانزم اور سائبر ہراسمنٹ کے خلاف مضبوط کارروائی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوسپاہ میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے آگاہی اور روک تھام کی کوششوں کو بڑھانے پر کام کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں صنفی حساسیت کو فروغ دینے، رپورٹنگ کے نظام کو مضبوط بنانے اور خواتین کے خلاف ہراسانی اور تشدد سے نمٹنے کے لیے ایک زیادہ باخبر اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور یونیورسٹیوں کے ساتھ ہم آہنگی جاری ہے۔ این سی ایس ڈبلیو کی چیئرپرسن نورین بانو لہری نے کہا کہ جہاں صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں کچھ اداروں خصوصاً یونیورسٹیوں کے اندر طاقت اور وسائل کے غلط استعمال کے حوالے سے بھی خدشات ہیں۔ انہوں نے شفاف اور جوابدہ نظام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تحفظ کے طریقہ کار کا غلط استعمال نہ ہو اور حقوق کے تحفظ اور انصاف کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹیوں میں صوبائی کوآرڈینیشن کے ساتھ کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں جن میں بیرونی ممبران کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ آزادی اور ساکھ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نقطہ نظر کا مقصد نگرانی کو مضبوط بنانا، شکایت سے نمٹنے کو بہتر بنانا اور ہراسانی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے معاملات سے نمٹنے میں اندرونی اثر و رسوخ یا تعصب کو روکنا ہے۔ وفاقی محتسب برائے ہراسانی فوزیہ وقار اور نورین بانو لہری نے بنیادی نصاب اور تعلیمی نصاب میں صنفی حساسیت کو شامل کرنے کے ذریعے معاشرے میں بیداری پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ اداروں میں احتساب کو فروغ دیتے ہوئے بروقت رسپانس کو یقینی بنانے اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو ختم کرنے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت کو بھی مضبوط کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کے لیے قوانین کا موثر نفاذ اور مربوط ادارہ جاتی کوششیں ضروری ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے غیر قانونی جرگہ نظام کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے متوازی ڈھانچے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور انصاف، مساوات اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انہیں مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ زیرو ٹالرنس، بہتر طرز حکمرانی اور پائیدار ادارہ جاتی اصلاحات پر مبنی مضبوط نظام کی تشکیل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔