گرمیوں میں چھوٹے پودوں کو ہفتے میں دو مرتبہ ، بڑے پودوں کو 8 سے 10 دن کے وقفے سے پانی دینا چاہیے، محکمہ زراعت سیالکوٹ
گرمیوں میں چھوٹے پودوں کو ہفتے میں دو مرتبہ ، بڑے پودوں کو 8 سے 10 دن کے وقفے سے پانی دینا چاہیے، محکمہ زراعت سیالکوٹ

مزید خبریں
سیالکوٹ۔1جون (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم شاد نے کہا ہے کہ جون کے دوران باغات والے بعض علاقوں میں گرم ہواؤں، لو اور بارشوں کی کمی کے باعث پھلدار پودوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے، لہٰذا باغبان پودوں کی خصوصی دیکھ بھال کو یقینی بنائیں اور ضرورت کے مطابق شام کے وقت آبپاشی کریں۔
اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کے میدانی اور جنوبی علاقے بتدریج شدید گرمی کی لپیٹ میں آ رہے ہیں جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق پھلدار پودے زیادہ سے زیادہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ اس سے زائد گرمی پھلوں کے جھلسنے، چھلکے پھٹنے اور معیار متاثر ہونے کا سبب بنتی ہے۔
انہوں نے باغبانوں کو ہدایت کی کہ نرسری سے نئے پودے خریدتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ پیوند کی اونچائی 12 سے 15 انچ سے زیادہ نہ ہو کیونکہ زیادہ اونچا پیوند دھوپ اور گرمی کی شدت کے باعث کمزور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے لگائے گئے آم، کھجور اور لیچی کے پودے گرمی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لیے ان کے لیے مناسب سایہ فراہم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں چھوٹے پودوں کو ہفتے میں دو مرتبہ جبکہ بڑے پودوں کو 8 سے 10 دن کے وقفے سے پانی دینا چاہیے۔ جون کے مہینے میں پھلدار پودوں کے تنوں پر نیلے تھوتھے اور چونے کے محلول سے سفیدی کرنے سے بھی انہیں گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جون اور جولائی کے دوران شدید گرمی اور گرم ہواؤں کے باعث چھوٹے اور بڑے پودوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہونے سے پودوں میں خوراک بنانے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور پھل کا کیرا بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے باغبان پودوں کے گرد ہلکی گوڈی کریں اور زمین کی سطح پر چار سے چھ انچ موٹی گھاس کی تہہ بچھا کر ملچنگ کریں۔
رانا سلیم شاد نے کہا کہ باغات کے گرد جامن، کچنار، تخمی آم اور بیر کے پودے ہوا توڑ باڑ کے طور پر لگائے جائیں جبکہ چھوٹے پودوں کو سرکنڈے یا پرالی سے ڈھانپ کر محفوظ بنایا جائے۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ پھلوں کو گرم ہواؤں سے بچانے کے لیے باغ کے جنوب مغربی حصے میں جنتر کی باڑ لگائی جائے۔انہوں نے بتایا کہ مالٹا، سنگترہ اور نمو کے ایسے پھل جن پر سورج کی شعاعیں براہ راست پڑتی ہوں، ان پر سادہ پانی کا سپرے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے باغبانوں پر زور دیا کہ مزید رہنمائی اور فنی مشوروں کے لیے محکمہ زراعت کے ماہرین سے رابطہ کریں۔








