بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہونے کے باعث ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں ، وفاقی وزیر احسن اقبال کا سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہونے کے باعث ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں تاہم حکومت محدود وسائل کے باوجود قومی اہمیت کے حامل منصوبوں کی تکمیل کے لئے پرعزم ہے۔

اسلام آباد۔1جون (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہونے کے باعث ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں تاہم حکومت محدود وسائل کے باوجود قومی اہمیت کے حامل منصوبوں کی تکمیل کے لئے پرعزم ہے۔سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی سطح پر جمود کا شکار ہے جبکہ اسی عرصے میں صوبوں کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 2869 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس کے باعث وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی اخراجات میں نمایاں فرق پیدا ہو گیا ہے۔احسن اقبال نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی لاگت اور تھرو فارورڈ بڑھ کر 10 ہزار 818 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

آئندہ مالی سال 2026-27 کے لئے 1126 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کی تجویز دی گئی ہے۔ وزارتوں نے جاری اور نئے منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر 4097 ارب روپے کی طلب پیش کی ہےتاہم محدود وسائل کے باعث تقریباً 3000 ارب روپے کی اضافی طلب پوری کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ دستیاب وسائل کو دانشمندی سے استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ ترجیحی منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے اور این-25 (پاکستان ایکسپریس وے) کے لئے 125 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت اپنی اتحادی جماعتوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 87 ارب روپے مختص کرے گی جبکہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور ضم شدہ اضلاع کے لئے 153 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق این ایف سی میں اپنے 40 فیصد حصے سے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو مالی معاونت فراہم کرے گا۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو معاشی استحکام کی جانب لے جانے کے لئے مستحکم، متوازن اور پائیدار ترقی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق برآمدات میں اضافے کے بغیر بلند اور دیرپا معاشی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایسی ترقی کے خواہاں ہیں جو پائیدار ہو اور جس کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔انہوں نے بتایا کہ زراعت کے شعبے میں اصلاحات اور پیداوار میں اضافے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جبکہ جدید ٹیکنالوجی، صنعت اور برآمدات کے فروغ کو قومی ترقی کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اپریل 2026 میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ شرح سود 23 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد کی سطح پر آنا ایک بڑی معاشی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2019 سے 2022 کے دوران لئے گئے قرضوں کی ادائیگیاں اس وقت قومی معیشت پر بھاری بوجھ بن رہی ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترقیاتی بجٹ میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ملک کو خود کفیل بنانے کے لئے ہر شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کرنا، انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل، سی پیک منصوبوں کو آگے بڑھانا اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کے اہم اہداف ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کے لئے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے اور اس سفر میں تمام اداروں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔