رواں ماہ جون میں صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ خالص ریلیف ملے گا، وزارت توانائی

وزارت توانائی نے اعلان کیا ہے کہ رواں ماہ جون میں صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ خالص ریلیف ملے گا۔ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق اگرچہ اپریل 2026 میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت 1.73 روپے فی یونٹ کا مثبت اثر (یعنی بل میں اضافہ) ہوا لیکن سال کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے لئے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے ) منفی رہی جو …

اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):وزارت توانائی نے اعلان کیا ہے کہ رواں ماہ جون میں صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ خالص ریلیف ملے گا۔ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق اگرچہ اپریل 2026 میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت 1.73 روپے فی یونٹ کا مثبت اثر (یعنی بل میں اضافہ) ہوا لیکن سال کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے لئے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے ) منفی رہی جو 1.93 روپے فی یونٹ ہے، چونکہ یہ منفی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (1.93) مثبت ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ (1.73) سے زیادہ ہے، اس لئے دونوں کے ایک دوسرے کو کینسل کرنے کے بعد صارفین کو خالص 20 پیسے فی یونٹ کا ریلیف مل رہا ہے۔

اس کے نتیجے میں جون 2026 میں جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں بجلی کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہ اس پس منظر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اپریل 2026 میں ایک سنگین عالمی بحران آیا تھا۔ ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے آر ایل این جی کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل تھی جو بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ عام حالات میں اس کا مطلب صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ کا ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کا اضافی بوجھ ہوتا لیکن حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے روزانہ صرف 2 سے 2.25 گھنٹے کی معتدل لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی الاٹمنٹ اور فرنس آئل کے محدود استعمال سے اس بڑے اضافے کو روک کر اصل ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود کر دیا۔

اس طرح حکومت نے اپریل میں تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچا لیا۔ دوسری جانب سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کی کمی (کل حجم 65 ارب روپے) بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے، قیمتوں میں استحکام اور انکریمنٹل ٹیرف پیکیجز کی وجہ سے ہوئی۔ مجموعی طور پر متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی صارفین کے حق میں جا رہی ہے۔ یہ تمام حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ریفرنس ٹیرف دانشمندانہ طور پر طے کیا گیا تھا اور عالمی و علاقائی مشکلات کے باوجود حکومت نے اپنی موثر کاوشوں سے صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے بچا لیا ہے۔