ایف بی آر نے برآمدکنندگان کے واجب الادا سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مد میں 12.5 ارب روپے کی ادائیگی شروع کر دی ریفنڈز کی رقوم کی براہ راست اکاﺅنٹس میں منتقلی کیلئے سٹیٹ بینک کو آگاہ کر دیا گیا اسلام آباد ۔ 31 اکتوبر(اے پی پی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کاروباری برادری بالخصوص برآمدکنندگان کے واجب الادا سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مد میں 12.5 ارب روپے کی …
ایف بی آر نے برآمدکنندگان کے واجب الادا سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مد میں 12.5 ارب روپے کی ادائیگی شروع کر دی

مزید خبریں
ایف بی آر نے برآمدکنندگان کے واجب الادا سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مد میں 12.5 ارب روپے کی ادائیگی شروع کر دی
ریفنڈز کی رقوم کی براہ راست اکاﺅنٹس میں منتقلی کیلئے سٹیٹ بینک کو آگاہ کر دیا گیا
اسلام آباد ۔ 31 اکتوبر(اے پی پی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کاروباری برادری بالخصوص برآمدکنندگان کے واجب الادا سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مد میں 12.5 ارب روپے کی ادائیگی شروع کر دی، ریفنڈز کی رقوم کی براہ راست اکاﺅنٹس میں منتقلی کیلئے سٹیٹ بینک کو آگاہ کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے 31 اگست 2017ءتک جاری کئے گئے آر پی اوز کے سیلز ٹیکس ریفنڈز 31 اکتوبر 2017ءتک جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس سلسلہ میں ایف بی آر نے سٹیٹ بینک کو 31 اگست 2017ءتک جاری کئے گئے 3261 آر پی اوز پر 12.5 ارب روپے کے ریفنڈز کی ادائیگی کا کہا ہے جو تاجروں و برآمد کنندگان کے اکاﺅنٹس میں الیکٹرانک کریڈٹ کے ذریعے 24 گھنٹوں کے اندر براہ راست جمع ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ حکومت نے واجب الادا ریفنڈز کے التواءکا مسئلہ ٹیکس گزاروں کی تعداد اور ٹیکس ادائیگیوں میں اضافہ کے باوجود حل کیا ہے، اس کا مقصد کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ ٹیکس جمع کرنے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی ہو، یہ ریفنڈز ایکسپورٹرز اور ٹیکسٹائل سمیت تمام شعبوں کے رجسٹرڈ افراد کو ادا کئے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران 40 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز بھی ادا کئے ہیں۔ ان اقدامات سے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی میں تاخیر کے مسائل حل ہوں گے۔








