ریمانڈ غیر معمولی اختیار ، اپیلٹ عدالتیں مقدمات خود نمٹانے کی پابند ہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مقدمات کو دوبارہ سماعت کے لیے ماتحت عدالتوں کو واپس بھیجنے (ریمانڈ) کا اختیار ایک غیر معمولی اور اصلاحی نوعیت کا اختیار ہے جسے معمول کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا

اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مقدمات کو دوبارہ سماعت کے لیے ماتحت عدالتوں کو واپس بھیجنے (ریمانڈ) کا اختیار ایک غیر معمولی اور اصلاحی نوعیت کا اختیار ہے جسے معمول کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، اپیلٹ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ ریکارڈ مکمل ہونے کی صورت میں وہ خود تنازعے کا فیصلہ کریں اور فریقین کو غیر ضروری مقدمہ بازی میں نہ الجھائیں ۔تفصیلی تحریری فیصلے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خلع، حق مہر، طلائی زیورات اور بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق خاندانی مقدمے میں محمد زبیر کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ریمانڈ صرف اسی صورت میں دیا جا سکتا ہے جب کوئی اہم قانونی یا حقائق پر مبنی مسئلہ مکمل طور پر نظر انداز ہو گیا ہو، ضروری شواہد زیر غور نہ آئے ہوں یا کسی فریق کو منصفانہ سماعت کا موقع نہ ملا ہو، تاہم ریمانڈ کا اختیار مقدمات کو طول دینے، ختم شدہ معاملات کو دوبارہ کھولنے یا کسی فریق کو اپنی کمزوریاں دور کرنے کا دوسرا موقع فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مقدمے کے مطابق راحیلہ گل اور ان کی بیٹیوں نے 2017 میں ڈیرہ اسماعیل خان کی فیملی کورٹ میں خلع، حق مہر، طلائی زیورات، بچوں کے نان و نفقہ اور مکان میں حصہ حاصل کرنے کے لیے دعویٰ دائر کیا تھا۔ فیملی کورٹ نے خلع کی ڈگری جاری کرتے ہوئے ایک چوتھائی مکان کی مالیت، پانچ تولہ سونا اور بچوں کے لیے ماہانہ نان و نفقہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔بعد ازاں اپیلٹ عدالت نے مقدمہ دوبارہ سماعت کے لیے ٹرائل کورٹ کو واپس بھیج دیا، تاہم پشاور ہائی کورٹ کے ڈیرہ اسماعیل خان بینچ نے اس ریمانڈ آرڈر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ نے فریقین کے موقف کی روشنی میں مناسب ایشوز طے کیے، شواہد ریکارڈ کیے اور تفصیلی فیصلہ دیا۔ ریکارڈ سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کوئی اہم مسئلہ زیر غور نہ آیا ہو یا کسی فریق کو شواہد پیش کرنے سے روکا گیا ہو۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ شوہر نے مقدمے میں پیش ہو کر تحریری جواب جمع کرایا اور کارروائی میں حصہ لیا، تاہم بعد میں خود غیر حاضر ہو گیا جس کے بعد اسے قانون کے مطابق یکطرفہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسا فریق بعد میں اپنی ہی غفلت کو مقدمہ دوبارہ کھلوانے کی بنیاد نہیں بنا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ اپیلٹ عدالت نے ریمانڈ دیتے وقت کسی مخصوص مسئلے کی نشاندہی نہیں کی جس پر مزید غور ضروری تھا بلکہ پورا مقدمہ دوبارہ ٹرائل کے لیے واپس بھیج دیا جو اپیلٹ اختیار کے درست استعمال کے منافی ہے۔سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ یہ خاندانی مقدمہ 2017 سے زیر التوا ہے اور تقریباً ایک دہائی گزرنے کے باوجود حتمی طور پر حل نہیں ہو سکا۔ خاندانی تنازعات میں میاں بیوی اور بچوں کے حقوق شامل ہوتے ہیں اس لیے ایسے مقدمات میں فوری اور حتمی فیصلہ ناگزیر ہے۔عدالت نے پشاور ہائی کورٹ اور اپیلٹ عدالت دونوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ دوبارہ اپیلٹ عدالت کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ وہ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر فریقین کو سن کر تین ماہ کے اندر اندر مقدمے کا حتمی فیصلہ کرے۔