سپریم کورٹ نے انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری اور گردوں کی خرید و فروخت کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ نہایت سنگین اور پیچیدہ معاملہ ہے جس میں بعض اوقات ڈاکٹرز، ہسپتال اور متعلقہ سرکاری اداروں کے کردار کا بھی جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
انسانی اعضاکی غیر قانونی پیوندکاری سنگین مسئلہ ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری اور گردوں کی خرید و فروخت کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ نہایت سنگین اور پیچیدہ معاملہ ہے جس میں بعض اوقات ڈاکٹرز، ہسپتال اور متعلقہ سرکاری اداروں کے کردار کا بھی جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو ٹیکسلا کے ڈاکٹر فواد ممتاز خان کی سات سال قید کی سزا کے خلاف دائر بریت کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر فواد ممتاز خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک شہری کو نوکری کا جھانسہ دے کر بے ہوش کیا اور اس کی رضامندی کے بغیر گردہ نکال لیا۔
وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں حقیقت کم اور الزامات زیادہ ہیں۔سرکاری وکیل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم ڈاکٹر کے خلاف اسی نوعیت کے مزید دس مقدمات بھی درج ہیں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور انسانی اعضا نکالے جانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ ایسے معاملات میں بعض اوقات ڈاکٹرز، ہسپتال اور متعلقہ سرکاری ادارے بھی ملوث ہوتے ہیں۔
عدالت نے فریقین کو ہدایت کی کہ مکمل ریکارڈ کے ساتھ بھرپور تیاری کر کے آئندہ سماعت پر پیش ہوں کیونکہ یہ اہم اور پیچیدہ مقدمہ ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عدالت آئندہ سماعت پر مقدمے کو تفصیل سے سن کر فیصلہ کرے گی۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ڈاکٹر فواد ممتاز خان کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی جسے ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ ملزم نے سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں بریت کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔








