ایف ٹی او کی ایف بی آر کو شہری معلومات کے مؤثر استعمال کے لیے منظم فریم ورک تشکیل دینے کی سفارش

فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او)نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو سفارش کی ہے کہ ریونیو لیکیجز کی نشاندہی، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ٹیکس انتظامیہ کی بہتری سے متعلق شہریوں کی فراہم کردہ معلومات کے جائزے اور ان پر مؤثر کارروائی کے لیے جامع اور شفاف ادارہ جاتی نظام تشکیل دیا جائے۔

اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او)نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو سفارش کی ہے کہ ریونیو لیکیجز کی نشاندہی، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ٹیکس انتظامیہ کی بہتری سے متعلق شہریوں کی فراہم کردہ معلومات کے جائزے اور ان پر مؤثر کارروائی کے لیے جامع اور شفاف ادارہ جاتی نظام تشکیل دیا جائے۔تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ ایک شکایت کے ذریعے ایف ٹی او کے نوٹس میں لایا گیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شکایت کنندہ نے 18 جنوری 2024 کو چیئرمین ایف بی آر کو قومی محصولات میں اضافے اور قابلِ ٹیکس سرگرمیوں کی بہتر نگرانی سے متعلق تجاویز ارسال کی تھیں، تاہم تقریباً 23 ماہ گزرنے کے باوجود ان پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

بعد ازاں 27 اکتوبر 2025 کو بھی یاددہانی ارسال کی گئی جس کا بھی کوئی جواب نہ دیا گیا۔ابتدائی مرحلے پر معاملے کو اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ٹیکس آن سروسز)آرڈیننس 2001 اور صوبائی سیلز ٹیکس قوانین سے متعلق سمجھتے ہوئے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا گیا، تاہم نظرثانی درخواست میں شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ فراہم کردہ 19 نکات میں سے صرف 5 سروسز سے متعلق تھے جبکہ باقی قابلِ ٹیکس اشیا کی فراہمی سے متعلق تھے۔نظرثانی کی سماعت کے دوران ایف ٹی او نے قرار دیا کہ ٹیکس بیس میں توسیع، ریونیو لیکیجز کی نشاندہی اور انتظامی بہتری کے لیے شہریوں کی جانب سے نیک نیتی سے فراہم کی جانے والی معلومات قومی خدمت کے مترادف ہیں اور ان پر ادارہ جاتی سطح پر مؤثر توجہ ضروری ہے۔

ایف ٹی او نے کہا کہ اگرچہ بعض ٹیکس چوری کے معاملات میں انعامی نظام موجود ہے، تاہم ریونیو لیکیجز، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور نظامی خامیوں سے متعلق معلومات کے مؤثر استعمال کے لیے کوئی جامع طریقہ کار موجود نہیں جس کے باعث اہم معلومات سے مکمل استفادہ ممکن نہیں ہو پاتا۔فیڈرل ٹیکس محتسب نے ایف بی آر کو سفارش کی ہے کہ شہریوں اور مخبروں کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات کے لیے باقاعدہ فریم ورک تشکیل دیا جائے اور شفاف معیار وضع کیے جائیں تاکہ قومی محصولات میں اضافے، ریونیو کے نقصان کی روک تھام اور انتظامی بہتری میں معاون معلومات فراہم کرنے والوں کی مناسب حوصلہ افزائی اور اعتراف ممکن ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے ضروری قواعد و ضوابط اور انتظامی ہدایات جاری کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔فیڈرل ٹیکس محتسب نے کیس کو انہی سفارشات کے ساتھ نمٹا دیا۔

 

مزید خبریں