اسلام آباد،پی سی ایس آئی آر کی زرعی برآمدات بڑھانے کے لئے 98 کروڑ روپے کے لیبارٹری اپ گریڈیشن منصوبے کی تیاری

پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق (پی سی ایس آئی آر) زرعی مصنوعات کے معیار کی یقین دہانی بہتر بنانے اور ملکی برآمدی صلاحیت میں اضافے کے لئے 98 کروڑ 33 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کا منصوبہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا

اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق (پی سی ایس آئی آر) زرعی مصنوعات کے معیار کی یقین دہانی بہتر بنانے اور ملکی برآمدی صلاحیت میں اضافے کے لئے 98 کروڑ 33 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کا منصوبہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا،’’برآمدات کے فروغ کے لئے زرعی مصنوعات کے معیار کی یقین دہانی کے حوالے سے پی سی ایس آئی آر کی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی مضبوطی اور اپ گریڈیشن‘‘ کے عنوان سے یہ منصوبہ 2026ء سے 2028ء تک دو سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا،وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت پی سی ایس آئی آر کی جانب سے نافذ کئے جانے والے اس منصوبے کا مقصد زرعی اجناس میں زرعی ادویات کی باقیات، افلاٹاکسن، بھاری دھاتوں اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانداروں (جی ایم اوز) کی جانچ کے لئے جدید سہولیات قائم کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی غذائی تحفظ کے تقاضوں پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق زرعی برآمدات کے لئے درکار جانچ اور تصدیق کی استعداد بڑھانے کی غرض سے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں جدید لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی۔یہ اپ گریڈ شدہ سہولیات یورپی یونین، امریکا اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک سمیت اہم برآمدی منڈیوں کے تقاضوں کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوں گی جس سے ان منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی بہتر ہوگی۔منصوبے سے برآمدات میں سالانہ 20 فیصد اضافے اور ہر سال تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر اضافی برآمدی آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔ بہتر جانچ، تصدیقی خدمات اور معیار کی یقین دہانی کے ذریعے ایک ہزار سے زائد برآمد کنندگان اور کسان بھی اس سے مستفید ہوں گے۔

یہ اقدام سائنسی بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور ویلیو ایڈڈ زرعی برآمدات کے فروغ کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب محفوظ، قابلِ سراغ اور اعلیٰ معیار کی غذائی مصنوعات کی عالمی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔منصوبے کے تحت لیبارٹریوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے گا جن میں ہائی پرفارمنس لیکوئیڈ کرومیٹوگرافی (ایچ پی ایل سی) اور لیکوئیڈ کرومیٹوگرافی–ٹینڈم ماس سپیکٹرو میٹری (ایل سی-ایم ایس/ایم ایس)پر مبنی ٹیسٹنگ نظام شامل ہیں۔اس کے علاوہ حیاتیاتی جانچ اور سکریننگ کے لئے انزائم لنکڈ امیونوسوربینٹ ایسی (ایلیزا) اور پولیمر چین ری ایکشن (پی سی آر) ٹیکنالوجیز بھی متعارف کرائی جائیں گی۔

مزید برآں لیبارٹریوں کو آئی ایس او/آئی ای سی 17025 کے معیارِ منظوری سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ جانچ کے طریقہ کار میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار، درستگی اور یکسانیت کو یقینی بنایا جا سکے۔توقع ہے کہ خوراک اور زرعی مصنوعات کی جانچ کے لئے قابلِ اعتماد اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نظام فراہم کرکے یہ منصوبہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آلودگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزیوں کے باعث برآمدات کی مستردگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔

مزید خبریں