سپریم کورٹ آف پاکستان نے 200 کلوگرام چرس برآمدگی کیس میں ملزم رضا خان کی بریت کی اپیل منظور کرکے بری کر دیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی۔
سپریم کورٹ نے 200 کلوگرام چرس برآمدگی کیس میں ملزم رضا خان کو بری کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے 200 کلوگرام چرس برآمدگی کیس میں ملزم رضا خان کی بریت کی اپیل منظور کرکے بری کر دیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی۔دورانِ سماعت وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو ایک ایسے مقدمے میں سزا دی گئی جس میں مبینہ طور پر 200 کلوگرام چرس برآمد ہوئی تاہم یہ مقدمہ دراصل کسی اور ملزم سے متعلق تھا۔
وکیل کے مطابق برآمدگی کے چار ماہ 18 دن بعد منشیات کو فرانزک جانچ کے لئے بھیجا گیا جس سے شواہد کی شفافیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ ملزم ٹرک چلا رہا تھا جس سے منشیات برآمد ہوئیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان کے موکل کی ایک ٹانگ نہیں، اس لئے وہ ٹرک چلانے کے قابل ہی نہیں۔دلچسپ ریمارکس دیتے ہوئے وکیل نے کہا کہ ایک ٹانگ والے شخص سے ٹرک چلانے کا الزام غیر منطقی ہے۔سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ ’’کیا چار ماہ تک چرس مال خانے میں عبادت کرتی رہی؟‘‘
جس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں احتیاط لازم ہے اور عدالت نے سوال اٹھایا کہ اس طرح کے شواہد کی بنیاد پر سزا کس طرح دی گئی۔وکیل صفائی نے بتایا کہ ایڈیشنل سیشن جج خضدار نے ملزم کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس کامران ملاخیل نے بھی سزا برقرار رکھی تھی۔جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں بنچ نے دلائل مکمل ہونے کے بعد اپیل منظور کرتے ہوئے ملزم کو بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔








