اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ تمام پالیسیاں پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور مفادات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دی جائیں گی۔ بیرونی طاقتوں کے مفادات کے تحت پالیسیاں نہیں بنیں گی۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے زیادہ خوشگوار ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا نہیں۔ امریکہ کو ضروری پیغام دے دیا گیا ہے، ہم اپنے مفادات کو 100 …
وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا ایوان بالا میں امریکی وزیر خارجہ کے دورے پر بحث سمیٹتے ہوئے اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ تمام پالیسیاں پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور مفادات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دی جائیں گی۔ بیرونی طاقتوں کے مفادات کے تحت پالیسیاں نہیں بنیں گی۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے زیادہ خوشگوار ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا نہیں۔ امریکہ کو ضروری پیغام دے دیا گیا ہے، ہم اپنے مفادات کو 100 فیصد ترجیح دیں گے، باقی چیزوں کی اہمیت ثانوی ہوگی۔ پاکستان کو قصور وار ٹھہرانا امریکی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ بدھ کو ایوان بالا میں امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ کے دورہ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ کے بیان اور حالیہ دورہ کے حوالے سے ایوان بالا میں اہم بحث ہوئی ہے۔ جن ارکان نے تجاویز دیں ان کا شکر گذار ہوں۔ پالیسیوں میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ امریکہ سے تعلقات کے زیادہ خوشگوار ہونے کی خوش فہمی میں کوئی مبتلا نہیں ہے۔ ہم امریکہ کے ساتھ افغانستان میں امن کے لئے بات چیت میں مصروف ہیں۔ امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ نے واپس جا کر ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ اگر کوئی کارروائی کے قابل انٹیلی جنس معلومات ملیں گی تو ان کے حوالے سے پاکستان عمل کرے گا، یہ بات درست ہے۔ ایوان کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ امریکہ کو جو پیغام دینا ضروری تھا دے دیا ہے۔








