چیئرمین مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) فرید احمد تارڑ نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی اور دیگر سینئر حکام سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سی سی پی ڈاکٹر اکرام الحق بھی ان کے ہمراہ تھے۔
چیئرمین مسابقتی کمیشن فرید احمد تارڑ کا پیپرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):چیئرمین مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) فرید احمد تارڑ نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی اور دیگر سینئر حکام سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سی سی پی ڈاکٹر اکرام الحق بھی ان کے ہمراہ تھے۔ملاقات کے دوران ایم ڈی پیپرا نے انہیں وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت پیپرا کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات پر بریفنگ دی جن میں ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل نو، استعداد کار میں اضافہ، ریگولیٹری فریم ورک کی نظرثانی اور ای-پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای پیڈز) کا نفاذ شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ای پیڈز وفاقی حکومت اور پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں مکمل طور پر فعال ہے۔ایم ڈی پیپرا نے کہا کہ سرکاری خریداری کے عمل کی ڈیجیٹائزیشن نے کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دیا ہے اور ٹینڈرز میں ملی بھگت کا راستہ روک دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سی سی پی کے تجزیاتی کام بالخصوص مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹم کے لئے منظم ڈیٹا شیئرنگ ضروری ہے تاکہ مشکوک بولیوں کی شناخت ممکن بنائی جائے۔چیئرمین سی سی پی فرید احمد تارڑ نے ای پیڈزکے نفاذ کو سراہتے ہوئے کہا کہ سی سی پی کا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام عوامی خریداری میں ملی بھگت کی شناخت کے لئے تیار کیا گیا ہے۔
یہ اقدام کمیشن کے سابقہ طریقہ کار سے ہٹ کر ایک فعال کردار ادا کرنے اور ڈیٹا پر مبنی فریم ورک کے نفاذ کی جانب ایک واضح پیش رفت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اے آئی ماڈل منظم خریداری ریکارڈز کی مدد سے پیشگی خطرے اورمشکوک بولی کے رویے کو شناخت کرکے نگرانی میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
خریداری ڈیٹا کے انضمام کے ساتھ، اس نظام کا مقصد ممکنہ غیر مسابقتی طریقوں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے تاکہ عوامی وسائل کا تحفظ ہو اور خریداری کے نتائج بہتر بنائے جا سکیں۔پیپرا اور سی سی پی نے موجودہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جس میں ڈیٹا انضمام، مشترکہ تجزیہ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے آلات کے استعمال پرتوجہ دی جائے گی ۔








