پاکستان میں زرعی ذخیرہ کاری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی لانے کے لیے 7.1 ارب روپے کی سوشل امپیکٹ فنانسنگ فیسلٹی کا آغاز کر دیا گیا۔ یہ منصوبہ انفرازمین پاکستان، بینک آف پنجاب، فیصل بینک لمیٹڈ اور پاک برونائی انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔
پاکستان میں زرعی ذخیرہ کاری کے فروغ کے لیے 7.1 ارب روپے کی تاریخی سوشل امپیکٹ فنانسنگ فیسلٹی کا آغاز

مزید خبریں
اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):پاکستان میں زرعی ذخیرہ کاری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی لانے کے لیے 7.1 ارب روپے کی سوشل امپیکٹ فنانسنگ فیسلٹی کا آغاز کر دیا گیا۔ یہ منصوبہ انفرازمین پاکستان، بینک آف پنجاب، فیصل بینک لمیٹڈ اور پاک برونائی انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ و محصولات کے مشیر عدنان پاشا نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان میں جدید اور نتائج پر مبنی مالیاتی نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے زرعی پیداوار میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی میں بہتری اور غذائی تحفظ کو فروغ ملے گا۔انہوں نے بتایا کہ فیسلٹی کے تحت 7.1 ارب روپے تک سرمایہ کاری متوقع ہے، جس میں 5 ارب روپے قرضہ جاتی فنانسنگ اور 2.1 ارب روپے ایکویٹی شامل ہوگی۔
انفرازامن پاکستان کی جانب سے 2.5 ارب روپے کی جزوی کریڈٹ گارنٹی فراہم کی جائے گی، جس سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو مزید فروغ ملے گا۔عدنان پاشا کے مطابق منصوبے کے ذریعے آئندہ دو سال میں 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا یا بہتر بنائی جائے گی۔ اس سے کسانوں کو اپنی پیداوار محفوظ رکھنے، بہتر قیمت حاصل کرنے اور مالیاتی سہولیات تک رسائی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ بہتر زرعی انفراسٹرکچر نہ صرف زرعی ویلیو چین کو مضبوط بنائے گا بلکہ گودام سازی، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ، کولڈ اسٹوریج، زرعی پراسیسنگ اور دیگر متعلقہ شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔تقریب کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی ذخیرہ کاری کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کی غذائی سلامتی، دیہی معیشت اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت نجی شعبے کی قیادت میں ایسے مالیاتی ماڈلز کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی جو ترقیاتی اہداف کے حصول اور جامع معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔انفرازمین پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ماہین رحمان نے کہا کہ یہ فیسلٹی زرعی ذخیرہ کاری کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے گی اور پاکستان کے زرعی نظام کو مزید مضبوط بنائے گی۔
بینک آف پنجاب کے صدر و سی ای او ظفر مسعود نے الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید اور ایگریگیٹر فنانسنگ نظام کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ فیصل بینک کے صدر و سی ای او یوسف حسین نے کہا کہ زرعی ذخیرہ کاری کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی اور زرعی ویلیو چین کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔پاک برونائی انویسٹمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر شمیم نے کہا کہ زرعی گودام اور ذخیرہ گاہیں غذائی تحفظ اور زرعی پیداوار کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، اور ادارہ زرعی شعبے میں جدید مالیاتی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔







