ڈائریکٹر جنرل نیب مرزا فاران بیگ نے پنجاب اسٹیٹ ایسیٹس ٹاسک فورس کے حوالے سے جمعہ کے روزپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اراضی کے تحفظ، واگزاری اور شفاف تصرف کو یقینی بنانے کے لیے قائم ٹاسک فورس میں نیب کلیدی کردار ادا کر رہا ہے
سرکاری اراضی کے تحفظ، واگزاری اور شفاف تصرف کو یقینی بنانے کے لیے قائم ٹاسک فورس میں نیب کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، مرزا فاران بیگ
لاہور۔5جون (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل نیب مرزا فاران بیگ نے پنجاب اسٹیٹ ایسیٹس ٹاسک فورس کے حوالے سے جمعہ کے روزپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اراضی کے تحفظ، واگزاری اور شفاف تصرف کو یقینی بنانے کے لیے قائم ٹاسک فورس میں نیب کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ کی قیادت میں نیب لاہور نے سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کے خلاف موثر کارروائیاں کرتے ہو ئے 433 ارب روپے مالیت کی 25,444 کنال سرکاری اراضی واگزار کرا کے ریاستی تحویل میں واپس لائی ہے۔ وزیراعلی پنجاب صوبائی سطح پر جبکہ چیئرمین نیب قومی سطح پر ٹاسک فورس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پنجاب میں کامیابی کے بعد اسی طرز پر سندھ میں بھی ٹاسک فورس قائم کی جا چکی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کے قیام کا عمل جاری ہے۔ڈی جی نیب نے کہا کہ پنجاب میں اس کامیاب آپریشن کے دوران بورڈ آف ریونیو پنجاب، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مثر بین الادارہ جاتی تعاون کے ذریعے وسیع سرکاری اراضی واگزار کروائی گئی۔ نیب ملتان نے بھی سرکاری اراضی کے تحفظ اور ناجائز قبضوں کے خاتمے کے لیے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور متعدد اہم کارروائیوں کے نتیجے میں کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ متعدد مقامات پر سرکاری زمینوں پر بظاہر قانونی دستاویزات کا سہارا لے کر قبضے قائم کیے گئے تھے ۔تحقیقات کے دوران ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے بعض افسران بھی سرکاری اراضی پر قبضوں کی سہولت کاری میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ایسے افسران اور نجی افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ نیب کی توجہ صرف زمین واگزار کرانے تک محدود نہیں بلکہ قبضہ مافیا کے پورے نیٹ ورک اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کی قیادت میں ادارے نے تاریخی کامیابی حاصل کی اور احتسابی نظام میں نمایاں اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ نیب نے 2023سے 2026کے دوران 15.6ٹریلین روپے کی ریکارڈ ریکوریز حاصل کیں جبکہ صرف 2025میں 115,000سے زائد متاثرین تقریبا 180 ارب روپے کی واپسی میں سہولت فراہم کی گئی۔ نیب لاہور نے 2025 میں 263.096 ارب روپیکی ریکوری یقینی بنائی اور 61,700متاثرین میں رقوم تقسیم کیں۔ اس وقت نیب لاہور بڑے پیمانے پر عوامی فراڈ کے ایسے مقدمات پر کام کر رہا ہے جن میں 81,090 متاثرین شامل ہیں اور مالی نقصان کا تخمینہ 124 ارب روپےہے۔ کاروباری برادری اور عوام کے لیے اکاونٹبلٹی فسیلیٹیشن سیل، بزنس فسیلیٹیشن سیل اور پارلیمنٹرین فسیلیٹیشن سیل قائم کیے گئے ہیں۔ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد، ای-کیس مینجمنٹ سسٹم، مقدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) پر مبنی تحقیقاتی نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے تاکہ احتسابی عمل کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔ اس موقع پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نبیل جاوید نے بتایا کہ شفافیت اور جوابدہی کے قومی ایجنڈے کے تحت بورڈ آف ریونیو میں بھی ڈیجیٹلائزیشن، جی آئی ایس پر مبنی لینڈ مینجمنٹ، ای-اسٹیمپنگ اور جدید پراپرٹی ٹرانسفر سسٹمز سمیت متعدد اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔پریس بریفنگ کے اختتام پر ڈی جی نیب نے عوام سے اپیل کی کہ سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں سے متعلق شکایات سرکاری شکایات پورٹل کے ذریعے درج کرائیں تاکہ پنجاب اسٹیٹ ایسیٹس ٹاسک فورس فوری کارروائی کرتے ہوئے عوامی اثاثوں کے تحفظ اور ان کے شفاف استعمال کو یقینی بنا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چیئرمین نیب عوامی اثاثوں کے تحفظ، سرکاری اراضی کی واگزاری، بدعنوانی کے سدباب اور ریاستی وسائل کے شفاف انتظام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں مزید مثر انداز میں جاری رکھیں گے۔









