خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے جمعہ کو اسلام آباد میں سسٹینیبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جو تنظیم کی دسویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا۔ اس موقع پر دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
دہشت گردی اور انتہاپسندی سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، اقتصادی ترقی کومتاثر کرتی ہیں، فیصل کریم کنڈی
اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے جمعہ کو اسلام آباد میں سسٹینیبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جو تنظیم کی دسویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا۔ اس موقع پر دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔گورنر خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے انسداد، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور پرتشدد انتہاپسندی کے تدارک کے شعبوں میں ایس ایس ڈی او کی گزشتہ ایک دہائی پر محیط خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے تحقیق، پالیسی مکالمے اور ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ ایس ایس ڈی او کے دورے اور دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف خیبر پختونخوا اور ملک بھر میں جاری کوششوں پر تنظیم کے کام سے آگاہ ہو کر خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی محض سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ سماجی ہم آہنگی، اقتصادی ترقی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ مؤثر پالیسی سازی، مضبوط اداروں اور کمیونٹی کی فعال شمولیت بھی ناگزیر ہے۔
گورنر نے پارلیمنٹیرینز اور دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ ایس ایس ڈی او کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنظیم آگاہی بڑھانے، پالیسی مکالمے کو فروغ دینے اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کے ذریعے اداروں اور قیادت کو بدلتے ہوئے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح کے اداروں کے درمیان مؤثر رابطے، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات پر مبنی ’’پورے حکومتی نظام‘‘ کے نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں، میڈیا، نوجوانوں، خواتین اور مقامی برادریوں کی شمولیت پر مبنی ’’پورے معاشرے‘‘ کے نقطہ نظر کو بھی ناگزیر قرار دیا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انتہاپسندانہ بیانیوں کا مقابلہ کرنے اور محفوظ و خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے اجتماعی کاوشیں اور مسلسل تعاون ضروری ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشترکہ اقدامات، مکالمے اور تعاون کے ذریعے مضبوط معاشرے تشکیل دئیے جا سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔اس موقع پر ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے گورنر خیبر پختونخوا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم قومی اور صوبائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تحقیق، استعداد کار میں اضافے اور تزویراتی روابط کے ذریعے دہشت گردی کے انسداد، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور پرتشدد انتہاپسندی کے تدارک کے فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔









