وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات مسجد نبوی کے قریب مرکزیہ میں پاکستانی حجاج کرام کی رہائش گاہوں کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور کا مدینہ منورہ میں حجاج کی رہائش گاہوں کا دورہ، انتظامات پر حجاج کا اظہار اطمینان

مزید خبریں
مدینہ منورہ ۔6جون (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات مسجد نبوی کے قریب مرکزیہ میں پاکستانی حجاج کرام کی رہائش گاہوں کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر مدینہ زاہد سہیل اور کوآرڈینیٹر مدینہ عمران مشعال بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وفاقی وزیر نے حجاج کرام سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں فراہم کی جانے والی مجموعی سہولیات، بالخصوص تین وقت کے کھانے کے معیار اور ٹرانسپورٹیشن کے نظام کے بارے میں دریافت کیا۔دورے کے دوران حجاج کرام نے سرکاری حج سکیم کے تحت کیے گئے انتظامات پر گہرے اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے حاجی حکیم رفیع اللہ نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ یہ ان کا پانچواں حج ہے، لیکن اس سال کے انتظامات پچھلے تمام حجوں کے مقابلے میں بہترین اور مثالی ہیں۔ انہوں نے خدام الحجاج اور معاون عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عملے نے ہر قدم پر ہماری رہنمائی کی، جس سے دل خوش ہو گیا۔ حاجی خیال محمد کا کہنا تھا کہ حج پر روانگی سے قبل ان کی سرکاری سکیم سے متعلق جو توقعات تھیں، مکہ اور مدینہ پہنچ کر انتظامات ان توقعات سے کہیں زیادہ اچھے پائے۔حاجی ڈاکٹر سعید نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرائیویٹ حج چھوڑ کر سرکاری سکیم کے تحت آئے ہیں اور حج کی تکمیل کے بعد انہیں اپنے اس فیصلے پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔ انہوں نے اور مدینہ منورہ میں مرکزیہ کے اندر بہترین رہائش و معیاری کھانا پانے والے دیگر حجاج نے پاکستانیوں کو مشورہ دیا کہ وہ پرائیویٹ حج پر اضافی رقوم خرچ کرنے کی بجائے سرکاری سکیم کی سستی اور اعلیٰ سہولیات سے فائدہ اٹھائیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے محمد ارسلان نے بہترین انتظامات پر اپنی اور اپنی والدہ کی جانب سے پاکستان حج مشن، وزارت مذہبی امور اور بالخصوص وفاقی وزیر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔دورے کے دوران اپنی فیملیز کے ساتھ آئے ہوئے حجاج کرام نے وفاقی وزیر کو تجویز دی کہ آئندہ سال مکہ مکرمہ کی طرح مدینہ منورہ میں بھی فیملی کے لیے الگ کمروں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اور اگر اس کے لیے اضافی رقم بھی رکھی جائے تو فیملیز کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ایک حاجی نے وفاقی وزیر سے شکایت کی کہ ایک موبائل نیٹ ورک نے حجاج کی اجازت کے بغیر ان کے ناموں پر دو دو سمیں نکالیں، تاکہ وہ اپنے پاسپورٹ پر اپنی مرضی سے مزید سمیں نہ لے سکیں۔ وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے اس سنگین شکایت پر فوری نوٹس لیتے ہوئے موقع پر ہی پاکستان حج مشن کے حکام سے جواب طلب کر لیا اور یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے ۔ دورے کے اختتام پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے متعلقہ حکام، خدام الحجاج اور معاون عملے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حج آپریشن کے آخری مرحلے تک حجاج کرام کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کھانے کے معیار، صفائی ستھرائی اور ٹرانسپورٹ کی روانی کی نگرانی چوبیس گھنٹے جاری رکھی جائے اور حجاج کی جانب سے آنے والی کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی شکایت کا فوری ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کااظہار کیا کہ حجاجِ کرام کو فراہم کردہ مثالی سہولیات کے تسلسل کو برقرار رکھنا وزارت کی اولین ترجیح ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔








