وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں
چین کے ساتھ نئے تجارتی و سرمایہ کاری معاہدے پاکستان کی معاشی تقدیر بدل سکتے ہیں، قیصر احمد شیخ

مزید خبریں
فیصل آباد/چنیوٹ ۔ 07 جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور حالیہ اعلیٰ سطحی کاروباری رابطوں کے نتیجے میں طے پانے والے متعدد معاہدے، مفاہمتی یادداشتیں اور مشترکہ منصوبے نہ صرف ملکی معیشت، صنعت، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیوں اورنئی پیش رفت کی بنیاد بنیں گے بلکہ پاکستان کو خطے میں سرمایہ کاری کے ایک مضبوط مرکز کے طور پر ابھارنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے،
وزیراعظم کی خصوصی ہدایات اور حکومتی معاشی وژن کے تحت چین کے ساتھ تعاون کے نئے راستے کھل رہے ہیں جن کے ثمرات آنے والے برسوں میں قومی معیشت پر واضح طور پر مرتب ہوں گے۔ وہ انجمن اسلامیہ چنیوٹ کے تعاون سے منعقدہ فری میڈیکل کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، سماجی شخصیات، طبی ماہرین، مقامی رہنما اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ وفاقی وزیر نے کیمپ کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، مریضوں کی عیادت کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے اشتراک سے چین میں پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے درمیان بی ٹو بی ملاقاتوں کا انعقاد کیا گیا جن کے نہایت مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا، مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وفد میں پاکستان بھر سے دو سو سے زائد کاروباری شخصیات، صنعت کار، زرعی ماہرین، ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد اور مختلف شعبوں کے نمائندے شامل تھے جنہوں نے چین کے اہم صنعتی، تجارتی اور ٹیکنالوجی مراکز کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفد نے نہ صرف چینی صنعتوں کی ترقی اور جدید پیداواری نظام کا مشاہدہ کیا بلکہ وہاں کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات بھی کیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح ہدایات دی تھیں کہ چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجی، سمارٹ فارمنگ سسٹمز، صنعتی آٹومیشن، مصنوعی ذہانت پر مبنی پیداواری نظام اور جدید مشینری کا عملی جائزہ لیا جائے تاکہ ان تجربات اور ٹیکنالوجیز کو پاکستان میں متعارف کرانے کے امکانات کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت اور صنعت پر ہے اور اگر ان دونوں شعبوں میں جدید چینی تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے توملکی پیداوار اور صنعتی ترقی کو نئی رفتار دے کر قومی پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ چین کے مختلف شہروں میں پاکستانی اور چینی کاروباری شخصیات کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں انتہائی کامیاب رہیں اور ان کے نتیجے میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جبکہ کئی مشترکہ منصوبوں پر عملی پیش رفت کے لیے بھی اتفاق رائے پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، زرعی ترقی، قابل تجدید توانائی اور مینوفیکچرنگ کے میدانوں میں اشتراک کے وسیع امکانات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فرٹیلائزر سیکٹر میں ایک اہم معاہدہ بھی طے پایا ہے جس کے تحت کوئلے سے متعلق جدید چینی ٹیکنالوجی پاکستان میں متعارف کرانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے نہ صرف کھاد کی پیداوار میں بہتری آئے گی بلکہ پیداواری لاگت میں کمی اور زرعی شعبے کی استعداد کار میں اضافہ بھی ممکن ہو سکے گا، جس کے نتیجے میں کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی محض سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ اعتماد، باہمی احترام، مشترکہ ترقی اور دیرینہ تعاون پر مبنی ایک مثالی شراکت داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 75 سال سے زائد عرصے پر محیط سفارتی تعلقات ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس دوستی کی روشن ترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں خصوصی اقتصادی زونز، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کے تبادلے، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے سے پاکستان میں صنعتی سرگرمیوں کو نئی توانائی ملے گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حجم میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت معیشت کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری ماحول کی بہتری اور عوامی فلاح کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں ایسے اقدامات متوقع ہیں جن سے کاروباری طبقے کو سہولت ملے گی، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی اور عام آدمی پر پڑنے والے مالی دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامع اصلاحات نافذ کر رہی ہے اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں تاکہ اقتصادی ترقی کا عمل مزید تیز ہو سکے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اپنی مؤثر سفارتی حکمت عملی کے ذریعے مثبت تاثر قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن، استحکام، علاقائی تعاون اور مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو عالمی برادری سراہا رہی ہے اور دنیا پاکستان کی قیادت کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جس سے ملک کا وقار مزید بلند ہوا ہے۔ سرمایہ کاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد وطن عزیز میں سرمایہ کاری کی خواہش رکھتی ہے اور حکومت ان کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں کو درپیش مشکلات کے خاتمے، ریگولیٹری اصلاحات کے نفاذ، غیر ضروری سرکاری رکاوٹوں کے خاتمے اور کاروبار دوست ماحول کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ فری میڈیکل کیمپ کے حوالے سے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے اور اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے انجمن اسلامیہ چنیوٹ کے تعاون سے مختلف علاقوں میں مفت طبی کیمپوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف عوام کو فوری طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں بلکہ صحت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میڈیکل کیمپ میں مریضوں کے مفت طبی معائنے، مختلف بیماریوں کے تشخیصی ٹیسٹ، ادویات کی فراہمی، ماہر ڈاکٹروں سے مشاورت اور ضرورت پڑنے پر بڑے ہسپتالوں میں ریفر کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چنیوٹ کے معروف اور تجربہ کار ڈاکٹروں نے رضاکارانہ طور پر اس فلاحی سرگرمی میں حصہ لیا جس سے سینکڑوں افراد مستفید ہوئے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ چنیوٹ کے معروف ماہر ڈاکٹروں نے رضاکارانہ طور پرخدمات انجام دیں جبکہ تقریباً پانچ سے چھ سو مریضوں نے اس میڈیکل کیمپ سے فائدہ اٹھایا اور انہیں مفت طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے منتظمین، ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی خدمت ایک عظیم انسانی فریضہ ہے اور ایسے اقدامات معاشرتی یکجہتی، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور سماجی اداروں کے باہمی تعاون سے عوامی فلاح و بہبود کے ایسے منصوبوں کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں میں عوامی خدمت کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔ قیصر احمد شیخ نے مزید بتایا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر مستحق اور نادار افراد میں عیدی تحائف بھی تقسیم کیے گئے تاکہ خوشیوں کے اس تہوار میں معاشرے کے کمزور طبقات کو بھی شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی خوشی اسی وقت ممکن ہے جب معاشرتی یکجہتی کو فروغ دیا جائے اور معاشرے کے تمام طبقات کو ترقی، سہولتوں اور خوشیوں میں برابر کا حصہ ملے۔








