سمندر انسانی زندگی، ماحولیاتی توازن، غذائی تحفظ اور معاشی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہیں، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ، وسائل کے پائیدار استعمال اور ماحولیاتی شعور کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ، وسائل کے پائیدار استعمال اور ماحولیاتی شعور کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سمندر انسانی زندگی، ماحولیاتی توازن، غذائی تحفظ اور معاشی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہیں، اس لیے ان کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے لیے قومی اور عالمی سطح پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال سمندروں کے عالمی دن کا موضوع "Reimagine” ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم سمندری وسائل کے تحفظ اور ان کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے اپنی حکمت عملیوں کا ازسرِنو جائزہ لیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان ایک اہم ساحلی ملک ہونے کے ناطے وسیع سمندری وسائل اور بے شمار معاشی امکانات کا حامل ہے۔ ماہی گیری، تجارت، بندرگاہی سرگرمیوں اور بلیو اکانومی سے وابستہ شعبوں میں سمندروں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، لہٰذا ان وسائل کا تحفظ قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، آلودگی کے خاتمے اور سمندری ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے مشترکہ اور مربوط اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حد سے زیادہ ماہی گیری، سمندری آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنا پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ صاف، صحت مند اور پائیدار مستقبل کے قیام کے لیے مؤثر ماحولیاتی حکمرانی، عوامی آگاہی اور پائیدار سمندری پالیسیوں کا فروغ ناگزیر ہے۔ انہوں نے پالیسی سازوں، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سمندری وسائل کے تحفظ اور ماحول دوست طرزِ عمل کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں۔سید یوسف رضا گیلانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے عالمی کوششوں اور بین الاقوامی تعاون میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ سمندروں اور ان سے وابستہ وسائل کا تحفظ نہ صرف ماحول کے استحکام بلکہ قومی معیشت کی مضبوطی اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔