نئی گاج ڈیم منصوبے میں تاخیر کیس، وفاقی آئینی عدالت نے سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی

وفاقی آئینی عدالت نے نئی گاج ڈیم تعمیراتی منصوبے میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی جبکہ وکیل واپڈا اور کنٹریکٹر نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔چیف جسٹس آ ئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔

اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے نئی گاج ڈیم تعمیراتی منصوبے میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی جبکہ وکیل واپڈا اور کنٹریکٹر نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔چیف جسٹس آ ئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت واپڈا کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نئی گاج ڈیم منصوبے کا ابتدائی بجٹ 26 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم کنٹریکٹر 26 ارب روپے کے علاوہ مزید 36 ارب روپے وصول کر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود منصوبے کا 50 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہو سکا۔واپڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی کنٹریکٹر کو منصوبہ مکمل کرنے کے لیے ایک ٹائم فریم دیا تھا، تاہم اس کے باوجود تعمیراتی کام مقررہ مدت میں مکمل نہیں کیا گیا۔دوسری جانب کنٹریکٹر کے وکیل مسعود خان نے عدالت کے روبرو مؤقف اپنایا کہ 2019 میں سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ منصوبے کا 50 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی یہ قرار دیا گیا تھا کہ منصوبے میں تاخیر کی بنیادی وجہ فنڈز کی عدم فراہمی تھی۔وکیل کنٹریکٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے گئے، جس کے باعث منصوبے کی تکمیل متاثر ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2024 سے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث کنٹریکٹر نے منصوبے پر کام روک رکھا ہے۔عدالت نے وکیل واپڈا اور کنٹریکٹر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کی مزید سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی، جبکہ آئندہ سماعت پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان اپنے دلائل پیش کریں گے۔