بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کے پیش نظر بحری وسائل کے تحفظ کے لیے فوری اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں، وفاقی وزیر بحری امور کا سمندروں کے عالمی دن پر پیغام

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ورلڈ اوشنز ڈے( 8 جون ) کے موقع پر انسانیت اور سمندروں کے درمیان تعلق پر ازسرِ نو غور کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کے پیش نظر بحری وسائل کے تحفظ کے لیے فوری اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔

اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ورلڈ اوشنز ڈے( 8 جون ) کے موقع پر انسانیت اور سمندروں کے درمیان تعلق پر ازسرِ نو غور کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کے پیش نظر بحری وسائل کے تحفظ کے لیے فوری اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزارت سے پیر کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ سمندر محض دور افتادہ ماحولیاتی نظام نہیں بلکہ زمین کے بنیادی لائف سپورٹ سسٹمز ہیں جو ہوا، خوراک اور عالمی آب و ہوا کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سمندروں کے حوالے سے محض آگاہی سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ ان کے تحفظ، بحالی اور پائیدار استعمال کو ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری کے طور پر اپنایا جا سکے وفاقی وزیر نے ساحلی تحفظ کے لیے جاری اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ہفتہ وار صفائی مہم کو سراہا، جس کا مقصد سمندری کچرے میں کمی اور بندرگاہی ماحول کی بہتری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں کی بحالی اور بحری حیاتیاتی تنوع کے فروغ کے لیے بھی مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مینگرووز کی بحالی پاکستان کی ساحلی لچک کی حکمتِ عملی کا اہم ستون ہے، کیونکہ یہ نہ صرف کاربن جذب کرتے ہیں بلکہ طوفانی اثرات کو کم کرنے اور مچھلیوں کی افزائش گاہوں کی حفاظت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔محمد جنید انوار چوہدری نے نوجوانوں اور سول سوسائٹی کی ماحولیاتی کوششوں کو بھی سراہا اور کراچی کے علاقے رِہڑی گوٹھ میں سالٹ واٹر مرینا کی بانی نوجوان ماحولیاتی کارکن الماس قاسمانی کا خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ الماس قاسمانی مینگروو تحفظ، حیاتیاتی تنوع کی دستاویز بندی، ماحول دوست سیاحت کے فروغ اور شجرکاری مہمات میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں اور انہیں کراچی پورٹ ٹرسٹ کا سفیر بھی نامزد کیا گیا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سمندر، جو عالمی آب و ہوا کے اہم ریگولیٹر ہیں، موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور بڑھتی ہوئی آلودگی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق ترقی پذیر ممالک، بشمول پاکستان، کو ساحلی خطرات اور مالی وسائل کی کمی جیسے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ وفاقی وزیر نے یورپی یونین کے اوشین آئی منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ سمندری مشاہدے اور ماحولیاتی انتظام کو بہتر بنانے کے لیے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیٹا شیئرنگ اور بحری جدت کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی معیشتوں کا مستقبل سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی سے وابستہ ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین، حکومت، صنعت اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ محض اعلانات کے بجائے ٹھوس اور عملی اقدامات کو یقینی بنائیں۔

مزید خبریں