سعودی عرب کی رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی ملکی پیداوار میں 3 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے ۔ العربیہ اردو نے سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے تخمینوں کے حوالے سے بتایا کہ 2025 کی اسی مدت کے مقابلے میں 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3 فیصد حقیقی نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔
سعودی عرب، رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی ملکی پیداوارمیں 3 فیصد نمو ریکارڈ

مزید خبریں
ریاض ۔10جون (اے پی پی):سعودی عرب کی رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی ملکی پیداوار میں 3 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے ۔ العربیہ اردو نے سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے تخمینوں کے حوالے سے بتایا کہ 2025 کی اسی مدت کے مقابلے میں 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3 فیصد حقیقی نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اتھارٹی کےگزشتہ فوری تخمینوں سے زیادہ ہیں، جن میں سالانہ بنیادوں پر 2.8 فیصد نمو دکھائی گئی تھی۔اتھارٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ نمو تمام اہم معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ تیل اور غیر تیل سرگرمیوں میں سے ہر ایک میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سرکاری سرگرمیوں میں 1.5 فیصد کی نمو دیکھی گئی۔ موسمیاتی ہم آہنگی کے لحاظ سے2025 کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں حقیقی جی ڈی پی میں 1.2 فیصد کی کمی ہوئی، جس کی بنیادی وجہ تیل کی سرگرمیوں میں 6.8 فیصد کی گراوٹ ہے۔سال2026 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی سالانہ نمو میں غیر تیل سرگرمیوں کا حصہ سب سے زیادہ رہا، جس نے 1.7 فیصد پوائنٹس کا تعاون کیا۔ تیل کی سرگرمیوں نے 0.8، سرکاری سرگرمیوں نے 0.3 اور مصنوعات پر خالص ٹیکسوں نے 0.2 فیصد پوائنٹس کا کردار ادا کیا۔معاشی ماہر محمد العنقری نے کہا ہے کہ موجودہ نمو عارضی نہیں بلکہ وژن 2030 کے اہداف کے تحت گزشتہ سالوں میں کی گئی بھاری سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آنے والے وقت میں غیر تیل معیشت میں 5 سے 5.5 فیصد تک نمو ہو گی۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر بندر الجعید نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی معیشت کی یہ مثبت رفتار مملکت کے ساختی تبدیلیوں اور غیر تیل شعبوں کو متحرک کرنے کے فیصلوں کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت، کان کنی اور نقل و حمل کے شعبوں میں سرمایہ کاری نے موجودہ بحرانوں کے منفی اثرات کو کم کرنے میں بہت مدد کی ہے۔








