پاکستان میں سال 2026 کے دوران معاشی استحکام، سرمایہ کاری، برآمدات اور مالیاتی شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس سے ملکی معیشت کے حوالے سے سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کا اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔
پاکستانی معیشت 2026 میں استحکام اور ترقی کی نئی راہ پر گامزن
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):پاکستان میں سال 2026 کے دوران معاشی استحکام، سرمایہ کاری، برآمدات اور مالیاتی شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس سے ملکی معیشت کے حوالے سے سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کا اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 163 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 1.35 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ پیش رفت عالمی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی معاشی صلاحیت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو بڑھ کر 35.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
ماہرین کے مطابق مالی سال کے اختتام تک ترسیلاتِ زر کا حجم 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔اسی طرح روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام کے تحت سرمایہ کاری کا حجم ریکارڈ 12.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو بیرونِ ملک پاکستانیوں کے اعتماد اور حکومتی مالیاتی پالیسیوں کی کامیابی کا مظہر ہے۔پاکستان میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع کے پیش نظر متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے بھی سرمایہ کاری کے اعلانات کیے ہیں۔ ان میں گوگل، آرامکو، بی وائی ڈی، ویون، اے ڈی پورٹس، مشرق بینک اور ترکش پیٹرولیم سمیت بڑی عالمی کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اعلانات کیے ہیں۔
جن کی دلچسپی مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کو مزید وسعت دے رہی ہے۔سرمایہ مارکیٹ میں بھی مثبت رجحان برقرار رہا، جہاں پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 5 لاکھ 45 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے جبکہ 9 نئی کمپنیاں بھی مارکیٹ کا حصہ بنیں۔ اس پیش رفت سے مارکیٹ کی گہرائی اور سرمایہ کاروں کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔حکومتی اصلاحات، معاشی نظم و ضبط، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور مؤثر معاشی منصوبہ بندی نے ملک میں معاشی استحکام کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان آئندہ برسوں میں مزید سرمایہ کاری، برآمدات اور معاشی نمو کے اہداف حاصل کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوگا۔








