مدینہ منورہ کی عالمی شہرت یافتہ علمی و قرآنی شخصیت اور ’’الصوت الندي‘‘ (دلنشین آواز) کے مالک فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ القرافی حفظہ اللہ کا تفصیلی علمی اور دعوتی پروفائل جاری کر دیا گیا ہے جو رواں سال سے مسجد نبوی ﷺ میں مستقل طور پر فرائض امامت سرانجام دے رہے ہیں۔
مسجد میقات سے منصب امامت مسجد نبوی ﷺ تک کا سفر، کلیۃ القرآن کے پی ایچ ڈی سکالر ڈاکٹر عبداللہ القرافی کا تفصیلی پروفائل سامنے آ گیا

مزید خبریں
خرم شہزاد
مدینہ منورہ۔10جون (اے پی پی):مدینہ منورہ کی عالمی شہرت یافتہ علمی و قرآنی شخصیت اور ’’الصوت الندي‘‘ (دلنشین آواز) کے مالک فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ القرافی حفظہ اللہ کا تفصیلی علمی اور دعوتی پروفائل جاری کر دیا گیا ہے جو رواں سال سے مسجد نبوی ﷺ میں مستقل طور پر فرائض امامت سرانجام دے رہے ہیں۔جاری کردہ سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ القرافی دور حاضر میں علم قرات اور اسلامی علوم کا ایک معتبر نام ہیں اور ان کا تعلیمی و تدریسی پس منظر انتہائی شاندار ہے۔ آپ مدینہ منورہ کی مایہ ناز درسگاہ ’الجامعہ الاسلامیہ‘ سے قرآن کریم کے شعبے میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ہیں اور اسی یونیورسٹی میں کلیۃ القرآن الکریم (فیکلٹی آف قرآن) کے ڈین (عمید) کی حیثیت سے اعلیٰ علمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر عبداللہ القرافی کو روایت حفص عن عاصم کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کا مستند ترین اسناد حاصل ہے۔
انہوں نے مدینہ منورہ کے کبار قرآء (عظیم اساتذہ) کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا ہے جن میں شیخ المقرئ سیف الرحمن بن حافظ شامل ہیں جن کے ہاتھ پر انہوں نے اسناد حاصل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مدینہ منورہ کے شیخ الاقراء الشیخ ابراہیم الاخضر، الشیخ عبدالرافع رضوان اور الشیخ حازم سعید حیدر جیسے جیّد شیوخ سے تلاوت کی تصحیح، اتقان اور علمی استفادہ کیا۔مسجد نبوی ﷺ کے منصب امامت پر فائز ہونے سے قبل الشیخ ڈاکٹر عبداللہ القرافی مدینہ منورہ کی متعدد تاریخی اور بڑی مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔
وہ مدینہ منورہ کی مشہور مسجد میقات (ذوالحلیفہ) میں مستقل امام اور خطیب رہے ہیں جبکہ انہوں نے تاریخی مسجد قباء، مسجد قبلتین اور جامع المهاجرین میں بھی صلاۃ التراویح اور تہجد کی امامت کی ہے۔سال 1445 ہجری میں انہیں پہلی مرتبہ مسجد نبوی ﷺ میں نماز تراویح کی امامت کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ان کی غیر معمولی قرآنی خدمات، علمی قابلیت اور دلکش طرز تلاوت کے پیش نظر سال 1446 ہجری سے انہیں مستقل طور پر مسجد نبوی ﷺ کا امام مقرر کر دیا گیا ہے۔مسجد نبوی ﷺ کے نئے مستقل امام کے علمی سفر اور ان کی رقت آمیز تلاوت کو دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج اور زائرین کرام کی جانب سے بے حد پسند کیا جا رہا ہے اور اسے حرمین شریفین کی انتظامیہ کا ایک بہترین انتخاب قرار دیا جا رہا ہے۔








