سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے سول سرونٹس ترمیمی بل پر غور کیا ہے اور پی سی بی گورننس میں اصلاحات کی سفارش کی ہے۔بدھ کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر سعدیہ عباسی اور سینیٹر …
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس ، سول سرونٹس ترمیمی بل پر غور، پی سی بی گورننس میں اصلاحات کی سفارش

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے سول سرونٹس ترمیمی بل پر غور کیا ہے اور پی سی بی گورننس میں اصلاحات کی سفارش کی ہے۔بدھ کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر سعدیہ عباسی اور سینیٹر محمد عبدالقادر نے شرکت کی جبکہ سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کی۔ کمیٹی نے ابتدا میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ ’’سول سرونٹس (ترمیمی) بل، 2026‘‘ کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ قواعد کے تحت وفاقی سرکاری ملازمین سے متعلق متعدد فیصلے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہیں، حالانکہ ان میں سے کئی معمول کے انتظامی نوعیت کے معاملات ہوتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایسے معاملات متعلقہ وفاقی سیکرٹری یا کسی مجاز اتھارٹی کو منتقل کیے جا سکتے ہیں تاکہ انتظامی امور میں تیزی اور موثریت پیدا ہو اور غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے تاہم جہاں ضروری ہو، فنانس ڈویژن کی منظوری بدستور لازمی رہے گی۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وفاقی سرکاری ملازمین کی بین الاقوامی ڈیپوٹیشن کے طریقہ کار پر بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر کمیٹی نے سفارش کی کہ ایسے معاملات کی منظوری متعلقہ ادارے اور وزیراعظم، دونوں سطحوں پر دی جائے۔ سینیٹر محمد عبدالقادر نے رائے دی کہ ہر معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجنے سے غیر ضروری تاخیر پیدا ہوتی ہے جس سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔
تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے مجوزہ ترامیم شامل کرنے کے لیے بل پر مزید غور آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔اجلاس میں ’’سٹینڈرڈ ٹائم (تشریح حوالہ جات) (ترمیمی) بل 2026‘‘ پر بھی غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ قیام پاکستان سے قبل پاکستان کے معیاری وقت کو گرین وچ مین ٹائم (جی ایم ٹی) سے پانچ گھنٹے آگے تصور کیا جاتا رہا جبکہ حقیقی فرق پانچ گھنٹے اور تیس منٹ ہے۔ کمیٹی نے اس تکنیکی غلطی کی طویل عرصے تک عدم اصلاح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجوزہ ترمیم کو سراہا اور متفقہ طور پر بل منظور کر لیا۔کمیٹی کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے مالیاتی ڈھانچے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) براڈکاسٹنگ رائٹس، سپانسرشپ اور گیٹ ریسیٹس سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے 95 فیصد فرنچائزز کو فراہم کرتا ہے جبکہ 5 فیصد حصہ بورڈ کے پاس رہتا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ہوٹلنگ، لاجسٹکس اور کھلاڑیوں سے متعلق اخراجات فرنچائز مالکان برداشت کرتے ہیں۔سینیٹر سعدیہ عباسی نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ اور بورڈ آف گورنرز کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ حکام نے بتایا کہ بورڈ اس وقت گیارہ ارکان پر مشتمل ہے اور انہی میں سے ووٹنگ کے ذریعے چیئرمین منتخب کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ اس وقت بورڈ میں کوئی خاتون رکن شامل نہیں۔کمیٹی نے سفارش کی کہ بورڈ آف گورنرز میں کم از کم ایک خاتون رکن کی شمولیت یقینی بنائی جائے اور تمام صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کو بھی مناسب نمائندگی دی جائے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کراچی سٹیڈیم کی تزئین و آرائش تقریباً 4.8 ارب روپے کی لاگت سے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس سلسلے میں جلد ٹینڈرز کھولے جائیں گے۔ چیئرمین کمیٹی کے استفسار پر حکام نے بتایا کہ جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق نئے کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر پر موجودہ تخمینے کے مطابق 12 سے 14 ارب روپے تک لاگت آ سکتی۔








