اسرائیل نے مغربی کنارے میں ریاستی سرپرستی میں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کی مہم تیز کر دی ہے،ایمنسٹی انٹرنیشنل

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کو باضابطہ طور پر ایک اعلان شدہ سیاسی ہدف بنا لیا ہے۔

لندن۔11جون (اے پی پی):انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کو باضابطہ طور پر ایک اعلان شدہ سیاسی ہدف بنا لیا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات گزشتہ روز تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے میں ریاستی سرپرستی میں نسلی تطہیر کی مہم تیز کر دی ہے۔ اس دوران فلسطینی برادریوں کو ان کی زمینوں سےنکالاگیا، ان کی املاک چھین لی گئیں اور انہیں جبری طور پر نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ تنظیم نے کہا کہ یہ حملے چند بگڑے ہوئے عناصر کا کام نہیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی آباد کاروں کی سفاکیت ریاستی سرپرستی میں جاری فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کی مہم کا ایک بنیادی عنصر ہے اور اسرائیل کے نسل پرستانہ نظام کو برقرار رکھنے میں اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں اسرائیل پر الزام لگایا گیا کہ وہ فلسطینیوں کو زبردستی اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کر رہا ہے اور انہیں آمدنی کے ذرائع سے محروم کر کے وہاں سے جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے ان حملوں سے نہ صرف کھلے عام چشم پوشی کی بلکہ آباد کاروں کے جرائم کی سرپرستی کی۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر بھی تنقید کی گئی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی بار بار اور سنگین خلاف ورزیوں کے سامنے یا تو ’’شریک جرم یا مکمل طور پر غافل‘‘قرار دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی جانب سےمارچ 2025 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں مغربی کنارے میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ آباد کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی توسیعی سرگرمیاں مربوط اقدامات اور اجتماعی نقل مکانی کی پالیسی کا ثبوت ہیں۔