وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس لگانے، غیر قانونی تجارت کے خلاف اقدامات ، اور سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دستاویزی معیشت کو مضبوط بنانے کے اقدامات کے حوالے سے تجاویز کا بغور جائزہ لے گی۔
وفاقی وزیر تجارت کی پاکستان ٹوبیکو کمپنی کو ٹیکسیشن اور نفاذ کے حوالے سے تجاویز باضابطہ طور پر پیش کرنے کی دعوت

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس لگانے، غیر قانونی تجارت کے خلاف اقدامات ، اور سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دستاویزی معیشت کو مضبوط بنانے کے اقدامات کے حوالے سے تجاویز کا بغور جائزہ لے گی۔وزارت تجارت سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں بجٹ سے متعلق تجاویز، تمباکو کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور سگریٹ کی بڑھتی ہوئی غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے وفد نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ گزشتہ سال کے دوران مضبوط نفاذ کے اقدامات مارکیٹ میں غیر قانونی سگریٹ کے حصہ میں کمی کا باعث بنے جس کے نتیجے میں حکومت کی آمدنی میں اضافہ اور دستاویزی شعبے میں ترقی ہوئی۔
وفد نے نوٹ کہا کہ ڈیوٹی ادا نہ کرنے والے اور سمگل شدہ سگریٹوں کے خلاف مسلسل اقدامات ٹیکس کی وصولی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔وفد نے سمگل شدہ تمباکو مصنوعات کے حوالے سے خدشات کو بھی اجاگر کیا، خاص طور پر سرحدی علاقوں سے، اور غیر قانونی تجارتی نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کی درخواست کی۔ پی ٹی سی کے وفد نے کہا کہ سگریٹ سمگل کی جانے والی سب سے زیادہ منافع بخش مصنوعات میں سے ایک بن گئی ہے، جس سے قومی خزانے اور مقامی مینوفیکچررز دونوں کو نقصان ہو رہا ہے ۔کمپنی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ درآمدات کے لیے ایک آسان فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) میکانزم کو بحال کرے اور ٹیکس پالیسیوں کو اس انداز میں معقول بنائے جس سے دستاویزات اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی ہو۔
وفد نے مزید نشاندہی کی کہ پاکستان کی کاروباری برادری کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں زیادہ ٹیکس، مالیاتی اخراجات میں اضافہ، تعمیل کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور صوبائی لیویز شامل ہیں، یہ سب مسابقت کو متاثر کر رہے ہیں اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔ ہنر مند پیشہ ور افراد کی نقل مکانی کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا، کیونکہ کاروباری اداروں کے لیے تجربہ کار انسانی وسائل کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اس موقع پروفاقی وزیر تجارت نے انڈسٹری کے خدشات کو تسلیم کیا اور ریونیو جنریشن اور معاشی نمو کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ رسمی شعبے کی حوصلہ افزائی اور اسے سہولت فراہم کی جانی چاہیے، کیونکہ یہ اقتصادی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کی تخلیق میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ محصولات میں پائیدار نمو ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور غیر دستاویزی معاشی سرگرمیوں کو رسمی معیشت میں لانے سے آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے نمایاں اقتصادی صلاحیت کا حامل ہے اور اسے کاروبار کے لیے دوستانہ ماحول پیدا کرنا چاہیے جو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے قابل ہو۔وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ وزیر اعظم اور اقتصادی ٹیم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت میں سرگرم ہیں اور نجی شعبے کی جانب سے تعمیری سفارشات پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے پی ٹی سی کو ٹیکسیشن اور نفاذ کے حوالے سے اپنی تجاویز باضابطہ طور پر پیش کرنے کی دعوت دی تاکہ انہیں متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جا سکے۔جام کمال خان نے غیر ضروری کاروباری لاگت کو کم کرنے اور ریگولیٹری ماحول کو ہموار کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وزارت تجارت برآمدات کو بڑھانے، صنعتی ترقی کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور پاکستان کی دستاویزی معیشت کو مضبوط کرنے والی پالیسیوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔








