پاکستان کی پہلی قومی جینوم پالیسی آئندہ ایک ماہ میں متعارف کرا دی جائے گی ،وفاقی وزیر صحت کا سٹیک ہولڈرز کے مشاورتی اجلاس سے خطاب

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نےکہا ہے کہ پاکستان کو نئی طبی ٹیکنالوجیز اور جدید تحقیقاتی رپورٹس کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ مستقبل کے صحت کے چیلنجز کا موثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے

اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نےکہا ہے کہ پاکستان کو نئی طبی ٹیکنالوجیز اور جدید تحقیقاتی رپورٹس کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ مستقبل کے صحت کے چیلنجز کا موثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔انہوں نے جینوم پالیسی کے حوالے سے پاکستان کی قومی جینومک پالیسی پرسٹیک ہولڈرز کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2030 تک دنیا کی چوتھی بڑی آبادی والا ملک بننے جا رہا ہے جبکہ ملک کو معاشی مشکلات اور بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے بیماریوں کے بوجھ کو کوئی بھی ملک طویل عرصے تک برداشت نہیں کر سکتا۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے اور ہسپتالوں میں مریضوں کا غیر معمولی دباؤ موجود ہے۔

انہوں نے صحت کے شعبے کو قومی سلامتی کا اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام بنیادی طور پر بیماریوں کے علاج پر مبنی ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ صحت عامہ اور بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دی جائے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو روایتی ہیلتھ کیئر ماڈل سے آگے بڑھتے ہوئے جینومک پروفائلنگ اور پریونٹیو ہیلتھ کیئر کی جانب جانا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت شاد ی سے قبل تھیلیسیمیا کی سکریننگ کو لازمی قرار دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ کے حوالے سے پہلے لڑکے کا ٹیسٹ لازمی ہونا چاہیے، جس کے بعد ضرورت پڑنے پر مزید مراحل طے کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں سکریننگ سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ صرف ان موروثی اور قابلِ روک تھام بیماریوں پر سالانہ 200 سے 300 ارب روپے تک خرچ ہو جاتے ہیں، جبکہ جدید جینومک ٹیسٹ کروانے کے لیے پاکستانی شہری لاکھوں روپے خرچ کرکے بیرونِ ملک رجوع کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اس لیے ملک میں جدید جینومک اور تشخیصی لیبارٹریوں کی موجودگی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سطح پر جدید تشخیصی سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔وزیر صحت نے اعلان کیا کہ پاکستان کی پہلی قومی جینوم پالیسی آئندہ ایک ماہ کے اندر متعارف کرا دی جائے گی جو ملک میں جینومکس، جینیاتی بیماریوں کی تشخیص، تحقیق اور صحت عامہ کی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ صحت کے شعبے کو بجٹ کی محدود دستیابی اور مالی مشکلات کا سامنا ہے، تاہم وزارت صحت عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے اور صحت کے نظام میں اصلاحات کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام چیلنجز کے باوجود حکومت صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے ہار نہیں مانے گی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔