عالمی توانائی بحران اور بین الاقوامی سپلائی چینز میں رکاوٹوں کے باوجود حکومتِ پاکستان نے مؤثر منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات کے ذریعے ملک میں ایندھن، بجلی اور ضروری اشیائے خورونوش کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی
عالمی توانائی بحران کے باوجود پاکستان میں ایندھن اور ضروری اشیا کی فراہمی مستحکم رہی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):عالمی توانائی بحران اور بین الاقوامی سپلائی چینز میں رکاوٹوں کے باوجود حکومتِ پاکستان نے مؤثر منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات کے ذریعے ملک میں ایندھن، بجلی اور ضروری اشیائے خورونوش کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی۔ذرائع کے مطابق حکومت نے بہتر انتظامی حکمت عملی کے تحت ایندھن کے کم از کم چار ہفتوں کے ذخائر برقرار رکھے، جس کے باعث سپلائی کا تسلسل متاثر نہیں ہوا۔ توانائی اور سپلائی امور میں مؤثر رابطہ کاری کے لیے قومی رابطہ و انتظامی کونسل تشکیل دی گئی جس نے مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید بہتر بنایا۔حکومت نے تیل، اشیائے ضروریہ، زرمبادلہ کے ذخائر اور سپلائی چین کی صورتحال کی نگرانی کے لیے ریئل ٹائم ڈیش بورڈز بھی متعارف کرائے، جن کی مدد سے ممکنہ خطرات اور رکاوٹوں کا بروقت اندازہ لگا کر مناسب اقدامات کیے گئے۔ذرائع کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور مہنگائی کے خدشات سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کا نظام اپنایا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملی۔حکومتی اقدامات کے باعث نہ صرف ایندھن، بجلی اور ضروری اشیا کی فراہمی برقرار رہی بلکہ صنعتی سرگرمیوں اور کاروباری عمل کا تسلسل بھی قائم رہا۔ ماہرین کے مطابق مؤثر انتظامی اقدامات نے پاکستان کو عالمی توانائی بحران کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔








