وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کی زیر صدارت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشیانوگرافی (این آئی او) کے بورڈ آف گورنرز کا 12واں اجلاس جمعرات کو وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ادارے کے پالیسی، انتظامی، مالی اور تکنیکی امور سے متعلق 10 مختلف ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر خالد حسین مگسی کی زیر صدارت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشیانوگرافی کے بورڈ آف گورنرز کا 12واں اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کی زیر صدارت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشیانوگرافی (این آئی او) کے بورڈ آف گورنرز کا 12واں اجلاس جمعرات کو وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ادارے کے پالیسی، انتظامی، مالی اور تکنیکی امور سے متعلق 10 مختلف ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
بورڈ آف گورنرز نے تمام ایجنڈا آئٹمز کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے کہا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشیانوگرافی ملک کا واحد قومی سمندری تحقیقی ادارہ ہے جو سمندری وسائل کے تحفظ، تحقیق اور پائیدار استعمال کے حوالے سے اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سمندری تحقیق کے فروغ اور جدید سائنسی علوم کے تبادلے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ پاکستان کی بلیو اکانومی اور سمندری شعبے کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ساحلی علاقوں کے تحفظ، سمندری ماحولیات کی بہتری اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشیانوگرافی کا کردار نہایت اہم ہے۔
انہوں نے ادارے کی تحقیقی سرگرمیوں اور پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت سمندری تحقیق کے شعبے کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔اجلاس میں بورڈ کے اراکین اور متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی اور ادارے کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔







