جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو شمالی کوریا میں ڈرونز کی دراندازی سے متعلق غداری کے جرم میں 30 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
جنوبی کوریا ،سابق صدر یون سک یول کو غداری کے جرم میں 30 سال قید کی سزا

مزید خبریں
سیئول۔12جون (اے پی پی):جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو شمالی کوریا میں ڈرونز کی دراندازی سے متعلق غداری کے جرم میں 30 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔شنہو ا کے مطابق سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے سابق صدر یون سک یول کو غداری کے الزام میں 30 سال قید کی سزا سنائی۔ یہ الزام ایسے جرم سے متعلق ہے جس میں جنوبی کوریا کے فوجی مفادات کو نقصان پہنچانے یا دشمن کو فائدہ پہنچانے کا ارتکاب کیا گیا ہو۔یون سک یول کے خلاف بغاوت اور دیگر الزامات کی تحقیقات کی سربراہی کرنے والی آزاد تفتیش کار چو اون سک کی ٹیم نے عدالت سے ان کے لیے 30 سال قید کی سزا کی استدعا کی تھی۔سابق صدر پر الزام تھا کہ انہوں نے اکتوبر 2024 کے دوران شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ڈرونز بھیجنے کا حکم دیا تاکہ شمالی کوریا کو فوجی طور پر اشتعال دلایا جا سکے اور اسی بنیاد پر دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کا جواز پیدا کیا جا سکے۔یون سک یول نے 3 دسمبر 2024 کی رات ملک میں ہنگامی مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم قومی اسمبلی نے چند گھنٹوں بعد اسے منسوخ کر دیا تھا۔جنوری 2025 میں انہیں بغاوت کے مبینہ سرغنہ کے طور پر حراست میں لے کر فردِ جرم عائد کی گئی تھی، جس کے بعد وہ جنوبی کوریا کی تاریخ میں گرفتار اور فردِ جرم عائد ہونے والے پہلے حاضر سروس صدر بن گئے۔








