پاکستان میں منہ کے کینسر کے علاج کے لیے پہلی قومی گائیڈ لائنز تیار کرنے کا فیصلہ

پاکستان میں منہ کے کینسر (اورل کیویٹی کینسر) کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ملک بھر کے طبی ماہرین نے اس بیماری کے علاج کے لیے پہلی مرتبہ قومی سطح پر متفقہ گائیڈ لائنز تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔یہ اہم فیصلہ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی میزبانی نوری ہسپتال کی چیئرپرسن ڈاکٹر حمیرا نے کی۔

اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):پاکستان میں منہ کے کینسر (اورل کیویٹی کینسر) کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ملک بھر کے طبی ماہرین نے اس بیماری کے علاج کے لیے پہلی مرتبہ قومی سطح پر متفقہ گائیڈ لائنز تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔یہ اہم فیصلہ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی میزبانی نوری ہسپتال کی چیئرپرسن ڈاکٹر حمیرا نے کی۔

اجلاس میں ملک کے بڑے کینسر مراکز کے ہیڈ اینڈ نیک سرجنز، میکسیلوفیشل سرجنز، میڈیکل و ریڈی ایشن آنکولوجسٹس اور نیوکلیئر میڈیسن کے ماہرین نے شرکت کی۔ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا میں منہ کے کینسر کی بلند ترین شرح رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ یہ مرض ملک میں مجموعی سرطان کے تقریباً 10.6 فیصد کیسز پر مشتمل ہےجبکہ مردوں میں سب سے عام اورمجموعی طور پر دوسرا بڑا کینسر ہے۔

شرکاء نے اس بیماری کےپھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں پان، چھالیہ (سپاری)، گٹکا، نسوار، تمباکو اور سگریٹ نوشی کو قرار دیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر مبشر اکرام نے کہا کہ قومی سطح پر یکساں رہنما اصول نہ ہونے کی وجہ سے مختلف اداروں میں علاج کے طریقہ کار میں فرق پایا جاتا ہےجبکہ زیادہ تر مریض تشخیص کے وقت بیماری کے آخری مراحل میں ہوتے ہیں جس سے علاج کے نتائج متاثر اور اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر احمد نواز نے بتایا کہ ماہرین نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ گائیڈ لائنز کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ’’ایڈاپٹ‘‘ طریقہ کار اختیار کیا جائے گا تاکہ عالمی معیار کی سفارشات کو پاکستان کے صحت کے نظام سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

نئی گائیڈ لائنز امریکی ادارے این سی سی این ، یورپی تنظیم ایسمو اور برطانیہ کے ادارے نائس کی سفارشات کی بنیاد پر تیار کی جائیں گی۔اجلاس میں مرحلہ وار روڈ میپ کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت زبان، گال کی اندرونی جھلی اور منہ کے نچلے حصے سمیت مختلف متاثرہ حصوں کے لیے ماہرین کے پینلز تشکیل دیے جائیں گے۔ بعد ازاں شواہد کا جائزہ، مسودہ سازی، ماہرین کی رائے اور حتمی منظوری کے مراحل مکمل کیے جائیں گے۔پاکستان ہیڈ اینڈ نیک سوسائٹی کے چیئرمین ڈاکٹر الطاف حسین نے اس اقدام کوکینسر کے علاج کو معیاری بنانے، مریضوں کی بقا کی شرح بہتر کرنے اور تحقیق کے فروغ کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔

اس موقع پر پمز کے شعبہ کان، ناک و گلا (ای این ٹی) کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ملک جواد فیصل نے کہا کہ قومی سطح کی یہ گائیڈ لائنز علاج میں موجود تفاوت کو کم کرنے اور مریضوں کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔اجلاس کے اختتام پر تمام شریک اداروں نے پاکستان میں منہ کے کینسر کےعلاج کے لیے پہلی جامع قومی گائیڈ لائنز جلد مکمل کرکے نافذ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

 

مزید خبریں