قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کابجٹ 27 ۔ 2026 کا جائزہ ،معاشی استحکام کی مضبوطی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحات کے تسلسل پر زور
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کابجٹ 27 ۔ 2026 کا جائزہ ،معاشی استحکام کی مضبوطی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحات کے تسلسل پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے مالی سال27۔ 2026 کے وفاقی بجٹ کا جائزہ لیتے ہوئے معاشی استحکام کو مضبوط بنانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ساختی اصلاحات کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بجٹ کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نوید قمر نے کہا کہ اگرچہ بجٹ میں بعض تدریجی اقدامات شامل ہیں تاہم یہ پاکستان کو درپیش بنیادی معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے،سرکاری اخراجات کی مؤثریت بہتر بنانے، قرضوں کے انتظام کو مضبوط کرنے اور سرمایہ کاری و پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں مالیاتی ماہرین نے ’’مالی سال27 ۔ 2026 کے وفاقی بجٹ کا بعد از بجٹ تجزیہ‘‘ پیش کیا جس میں معاشی اہداف،محصولات، اخراجات، ترقیاتی منصوبوں، ٹیکس اصلاحات اور مالیاتی منظرنامے پر بریفنگ دی گئی۔
کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ بجٹ میں محصولات کے حصول اور مالیاتی استحکام پر زیادہ توجہ دی گئی ہےجبکہ اقتصادی ترقی،سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ارکان نے بار بار محصولات کے اہداف حاصل نہ ہونے کے باوجود نئے بلند اہداف مقرر کرنے پر بھی سوالات اٹھائے ۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجٹ پاکستان کے جاری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت تیار کیا گیا ہےجہاں مالیاتی خسارے میں کمی اورپرائمری سرپلس کا حصول بنیادی اہداف ہیں۔ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 4 فیصد جی ڈی پی شرح نمو اور 8.2 فیصد مہنگائی کی پیش گوئی کی ہےجبکہ وفاقی اخراجات کا تخمینہ تقریباً 18.7 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو تقریباً 15 کھرب روپے محصولات جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ ارکان نےاس ہدف کے حصول کے عملی امکان پر تحفظات کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں حقیقی وسعت کے بجائے نفاذی اقدامات پر انحصار کیا گیا ہے۔اجلاس میں اس امر پر بھی بحث ہوئی کہ قرضوں کی ادائیگی اب بھی وفاقی جاری اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہےجو 8 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
ارکان نے قرضوں کے بوجھ میں کمی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ مالی گنجائش پیدا کرنے کی خاطر جامع قرضہ جاتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔توانائی کے شعبے میں بجلی اورگیس سبسڈی کی غیر مؤثریت، مختلف سبسڈی پروگراموں کی شفافیت اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اخراجات میں کمی پر بھی سوال اٹھایا۔ کمیٹی نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہےاس لیے ماحولیاتی تحفظ، قابلِ تجدید توانائی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں پر زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔کمیٹی نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف، بعض کسٹم ڈیوٹیوں میں کمی، برآمد کنندگان کے لیے مراعات اور پراپرٹی سیکٹر سے متعلق اصلاحات کا بھی جائزہ لیا۔ مجوزہ ریٹیلر ٹیکس اسکیم پربھی ارکان نے سوال اٹھائے اور موجودہ ٹیکس بنیاد متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔اجلاس میں زیب جعفر، محمد عثمان ،ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، شرمیلا فاروقی، علی جان مزاری،ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ ،محمد جاوید،حنیف خان ، ارشد عبداللہ اور دیگر ارکان کے علاوہ وزارت خزانہ کے حکام اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر علی سلمان بھی شریک ہوئے۔







