پاکستان کو سالانہ 23 لاکھ خون کے عطیات کی کمی کا سامنا، ڈبلیو ایچ او کا انتباہ
پاکستان کو سالانہ 23 لاکھ خون کے عطیات کی کمی کا سامنا، ڈبلیو ایچ او کا انتباہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان میں رضاکارانہ خون کے عطیات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک کو سالانہ تقریباً 2.3 ملین خون عطیات کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث ہسپتالوں کی جان بچانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہا کہ پاکستان کو صحت کے نظام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سالانہ 5 ملین سے زائد خون کے عطیات درکار ہیں تاہم اس وقت صرف تقریباً 2.7 ملین عطیات موصول ہوتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق ان میں سے صرف 18 فیصد رضاکارانہ اور بلا معاوضہ عطیات ہوتے ہیں جبکہ باقی 82 فیصد مریضوں کے اہلِ خانہ یا متبادل عطیہ دہندگان سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر لوو دپینگ نے کہا کہ رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والے ’’عوامی صحت کے ہیروز‘‘ہیں اور ایک عطیہ تین زندگیاں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نےکہا کہ کسی بھی مریض کو خون کی کمی کی وجہ سے جان نہیں گنوانی چاہیے اور جدید طبی سہولیات کے باوجود خون کی دستیابی کے بغیر زندگیاں بچانا ممکن نہیں۔ادارے نے بتایا کہ خون کی منتقلی خاص طور پر زچگی کے دوران پیچیدگیوں، شدید انیمیا، خون بہنے کی بیماریوں، کینسر، متعدی امراض اور ہنگامی صورتحال میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔عالمی ادارۂ صحت نےحکومتوں اور صحت کے حکام پر زور دیا کہ وہ رضاکارانہ خون عطیات کے فروغ، محفوظ اسکریننگ، اور منظم بلڈ بینک نظام کو مضبوط بنائیں۔ڈبلیو ایچ او نےاس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ پاکستان کے صحت کے شعبے کےساتھ تعاون جاری رکھے گا تاکہ ملک بھر میں محفوظ اور مساوی خون کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔







