عام آدمی کو ماحولیاتی بحران اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے، اقوام متحدہ

عام آدمی کو ماحولیاتی بحران اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے، اقوام متحدہ

اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):زمین کی ذرخیزی کے تحفظ، بنجرپن اور خشک سالی سے بچائو کےلئے عام آدمی کو ماحولیاتی بحران اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر 1994 میں اپنی ایک قرارداد کے ذریعے 17 جون کو ’’ بنجر پن اور خشک سالی سے تحفظ کا عالمی دن‘‘ منانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ دن باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد زمین کی ذرخیزی کو برقرار رکھنے ، صحرا زدگی روکنے اور عوام کو ماحولیاتی بحران ، زمین کی ذرخیزی میں کمی، پانی کی قلت کے مسائل اور موسمیاتی تبدیلیوں سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔

واضح رہے کہ دنیا کے کئی خطوں میں قابل کاشت زمین میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں غذائی قلت ، غربت اور معاشی مسائل درپیش ہیں۔ زمین کی ذرخیزی میں کمی کے نتیجہ میں سب سے پہلا اثر براہ راست خوراک کی پیداوار پر ہوتا ہے اور گندم، چاول ، مکئی، دالوں، پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ ماحولیات کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر زمین کی ذرخیزی اور زیر کاشت زمین میں کمی ہوتی رہی تو مستقبل میں غذائی تحفظ ایک بڑا عالمی مسئلہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمین کی ذرخیزی، صحرا زدگی کو روکنے اور ماحولیاتی بحرانوں اور پانی کی قلت سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر مربوط اور جامع حکمت عملی کے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ غذائی قلت کے بحران سے بچا جا سکے۔