فنِ خطاطی اور جذبہ ایمانی کا لازوال شاہکار،10 ماہ کی طویل محنت سے تیار ہونے والا ’’کسوہ ‘‘ کل خانہ کعبہ کی زینت بنے گا
فنِ خطاطی اور جذبہ ایمانی کا لازوال شاہکار،10 ماہ کی طویل محنت سے تیار ہونے والا ’’کسوہ ‘‘ کل خانہ کعبہ کی زینت بنے گا

مزید خبریں
خرم شہزاد
مکہ مکرمہ۔14جون (اے پی پی):عقیدت و احترام کا عظیم مظہر، 10 ماہ کی شبانہ روز محنت، مہارت اور جذبہِ ایمانی سے تیار ہونے والا’’ کسوہ‘‘ (غلافِ کعبہ) پیر 15 جون 2026 کی شب خانہ کعبہ کی زینت بنے گا۔ مناسک حج سے قبل سعودی عرب کی جانب سے 27 اسلامی ممالک کے میڈیا نمائندوں کو اس شاہکار کی تیاری کے منفرد اور تکنیکی مراحل دکھائے گئے تھے، جنہیں اب عملی جامہ پہنانے کا وقت آن پہنچا ہے۔

پیر کی شب ٹھیک 12 بجے شروع ہونے والی یہ تقریب عالمِ اسلام کے لیے ایک روح پرور منظر پیش کرے گی۔الحرمین شریفین انتظامیہ نے ’’ایکس‘‘ پر جاری پیغام میں بتایا کہ کسوہ( غلاف) کی تبدیلی کا مرحلہ وار آغاز پیر کو نمازِ عصر کے بعد ہوگا۔ اس دوران شاذروان کے حلقوں کی تنصیب اور پردہ ہٹانے کے بعد عشاء کے بعد پرانے غلاف کی سلائیاں ادھیڑی جائیں گی، جس کے بعد نصف شب (12:00 بجے) مرکزی تقریب میں نیا کسوہ کعبہ پر چڑھایا جائے گا۔


س عظیم الشان تقریب کی عالمی سطح پر کوریج کے لیے سعودی جنرل اتھارٹی میڈیا ریگولیشنز نے مناسک حج سے قبل ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے نمائندے خرم شہزاد سمیت 27 اسلامی ممالک کے میڈیا وفد کو "کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے غلافِ کعبہ” کا خصوصی دورہ کروایا ۔ اس دورے کا بنیادی مقصد دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی اور روایتی دستکاری کے امتزاج سے تیار ہونے والا یہ غلاف محض ایک کپڑا نہیں بلکہ اسلامی فنِ لطیفہ اور جذبہِ ایمانی کا ایک زندہ شاہکار ہے۔
صحافیوں نے اپنی آنکھوں سے ان کاریگروں کی مہارت دیکھی جو گزشتہ 10 ماہ سے اس مبارک کام میں مصروفِ عمل تھے۔کسوہ کمپلیکس حکام نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ غلاف کی تیاری کا عمل دس ماہ تک جاری رہتا ہے، جس میں ریشم کی صفائی، رنگائی، خطاطی اور کڑھائی کے پیچیدہ مراحل شامل ہیں۔ ہر مرحلہ انتہائی ذمہ داری اور روحانی وابستگی کے ساتھ مکمل کیا جاتا ہے۔غلاف پر موجود قرآنی آیات کو نمایاں کرنے کے لیے خالص سونے اور چاندی کے تاروں کا استعمال کیا جاتا ہے، جو اسے سال بھر موسم کی تبدیلیوں کے باوجود پائیدار اور چمکدار رکھتے ہیں۔
اگرچہ جدید ‘جیکارڈ’ ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، مگر آیات کے نقوش کو ابھارنے کا کام ماہرین اپنے ہاتھوں سے مکمل کرتے ہیں، جس سے اس کی انفرادیت اور خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔14 میٹر لمبا یہ غلاف 5 حصوں پر مشتمل ہے، جس کا استر اسے مضبوطی اور پائیداری فراہم کرتا ہے۔سعودی عرب کے نشریاتی اداروں کے مطابق پیر کی شب ہونے والی اس پروقار تقریب کو دنیا بھر میں لائیو اسٹریم کیا جائے گا تاکہ ہر مسلمان اس عظیم الشان لمحے کا حصہ بن سکے۔








