قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال27-2026 کے وفاقی بجٹ پر عام بحث جاری
قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال27-2026 کے وفاقی بجٹ پر عام بحث جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال27-2026 کے وفاقی بجٹ پر عام بحث اتوار کو بھی جاری رہی، اس دوران حکومتی اراکین نے بجٹ کو عام آدمی کیلئے اچھی کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ کم آمدنی والوں پر بجٹ میں ٹیکس کا بوجھ کم کیا گیا ہے، تنخواہ دار طبقے کیلئے بھی ٹیکسز میں کمی کی گئی ہے جبکہ اپوزیشن نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ متوسط طبقے کے استعمال کی اشیاء مہنگی ہوئی ہیں۔ اتوار کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ( ن ) کے رکن جمال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کو ترجیح دی جائے،وہاں کے لوگ امن چاہتے ہیں۔
تفتان بارڈر کو کھولا جائے یہاں کسٹم کا عملہ تعینات کیا جائے، اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اپوزیشن رکن شاہد خٹک نے کہا کہ موجودہ حکومت کا یہ پانچواں بجٹ ہے،ملک میں مہنگائی کا سیلاب ہے، پیٹرول کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں، متوسط طبقہ کے استعمال کی اشیا مہنگی ہوئی ہیں،کم آمدن والوں کو مشکلات ہیں، یہ ہمارا ملک ہے،اس کے بنانے میں ہمارے آبائو و اجداد کا خون شامل ہے، بجٹ میں اگر عام آدمی کو ریلیف ملتا ہے تو یہ بہتر بجٹ ہے،ایف بی آر کا ہدف رواں سال پورا نہیں ہوسکا،اس میں کمی کی گئی،آئندہ سال کے ہدف میں مزید اضافہ کیا گیا ہے یہ کیسے پورے ہوگا۔اس ہدف کے شارٹ فال سے مالی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ان ڈائریکٹ ٹیکس کا ہدف بھی پورا نہیں ہوسکا پھر اس کا ہدف بڑھا دیا گیا ہے۔افراط زر کی شرح 8 فیصد ہے تاہم بجلی،ٹرانسپورٹ سمیت دیگر انفلیشنز زیادہ ہیں۔عوام کے مسائل کا حل ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کا شعبہ معیشت کو سدھار سکتا ہے لیکن اس کے لئے صرف چار ارب روپے رکھے گئے ہیں،ان مسائل کا حل جدیدیت پر مبنی طویل المدتی پالیسی ہے۔ پاکستان نے انڈین فالس فلیگ کا منہ توڑ جواب دیا،ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں،دشمن سندور 2 کی دھمکیاں لگا رہا ہے،ہمیں اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے رکن عثمان بادینی نے کہا کہ بلوچستان میں موجود معدنیات سے پاکستان کے قرضے ختم ہوسکتے ہیں،تاہم وہاں کے بسنے والوں کے لئے کوئی پالیسی نہیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ پر 25 سال سے کام ہورہا ہے لیکن وہاں کے رہائشیوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، ماہی گیروں کو چھت میسر نہیں۔انہوں نے کہا کہ بسیمہ خاران شاہراہ بنائی جائے۔ تفتان چمن بارڈر سے ہم لیگل بارڈر ٹریڈ کا تسلسل چاہتے ہیں۔وہاں پیٹرول نہیں مل رہا، لوڈشیڈنگ کا دورانیہ طویل ہے۔








