سویا بین کی کاشت کے فروغ سے خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی لائی جا سکتی ہے، شاہد عمران

سویا بین کی کاشت کے فروغ سے خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی لائی جا سکتی ہے، شاہد عمران

لاہور۔14جون (اے پی پی):ایف پی سی سی آئی کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ سویا بین پاکستان کے بڑھتے ہوئے خوردنی تیل کے درآمدی بل میں نمایاں کمی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔اتوار کو سویا بین کی کاشت کے فوائد کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا پولٹری شعبہ، جو ٹیکسٹائل کے بعد دوسرا بڑا شعبہ ہے، فیڈ کے لیے بڑی حد تک سویا بین میل پر انحصار کرتا ہے جبکہ مچھلی اور ڈیری فارمنگ میں بھی اس کا وسیع استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان نے344 ملین ڈالر مالیت کا سویا بین آئل اور دو ملین ٹن سے زائد خام سویا بین درآمد کی،تاہم سویا بین کی مقامی کاشت کی کامیابی زرعی موزونیت کے ساتھ ساتھ مارکیٹ اور ساختی عوامل سے بھی مشروط ہے۔شاہد عمران نے کہا کہ پاکستان میں خوردنی تیل کی فی کس کھپت دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شامل ہے جبکہ پام آئل 3.21 ملین ٹن درآمدات اور3.4 ارب ڈالر کی مالیت کے ساتھ مارکیٹ پر غالب ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک سویا بین آئل قیمت کے لحاظ سے پام آئل کا مقابلہ نہیں کرتا،اس کا بڑے پیمانے پر متبادل بننا مشکل ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسان عموما ایسی فصلیں اگانے سے گریز کرتے ہیں جن کی مارکیٹنگ محدود ہو اور خریدار کم ہوں۔اس لیے پاکستان کو ایسی نئی فصلوں کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے جو یا تو برآمدی صلاحیت رکھتی ہوں یا درآمدات کا موثر متبادل ثابت ہو کر قومی درآمدی بل میں کمی لا سکیں۔