گرین پاکستان پروگرام کے تحت مالی سال26۔ 2025 میں 2.3 ارب پودے لگائے گئے
گرین پاکستان پروگرام کے تحت مالی سال26۔ 2025 میں 2.3 ارب پودے لگائے گئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):گرین پاکستان پروگرام کے تحت ملک بھر میں تقریباً 2.3 ارب پودے لگائے، دوبارہ اگائے یا تقسیم کیے گئے، جو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی شجرکاری مہمات میں سے ایک ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ پروگرام پاکستان کی ماحولیاتی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ ملک کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، سیلاب، خشک سالی اور زمین کی زبوں حالی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 تک مجموعی طور پر 2 ارب 28 کروڑ 33 لاکھ پودے لگائے، دوبارہ اگائے یا تقسیم کیے جا چکے تھے۔ اس طرح پروگرام نے اپنے مجموعی ہدف کا 69.3 فیصد حاصل کر لیا جبکہ تقریباً 7 لاکھ ہیکٹر رقبے پر درختوں کے احاطے میں اضافہ ہوا۔جولائی تا مارچ مالی سال 26-2025 کے دوران صوبوں اور علاقوں نے مجموعی طور پر 3 کروڑ 5 لاکھ پودے لگائے، دوبارہ اگائے یا تقسیم کیے۔ شجرکاری اہداف کے حصول میں سندھ نے 86 فیصد، پنجاب نے 79 فیصد، خیبر پختونخوا نے 73 فیصد، گلگت بلتستان نے 62 فیصد، آزاد جموں و کشمیر نے 34 فیصد اور بلوچستان نے 28 فیصد کارکردگی دکھائی۔پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ تقریباً 41 لاکھ ہیکٹر ہے جو ملک کے مجموعی زمینی رقبے کا صرف 4.7 فیصد بنتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً 11 ہزار ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے ہیں، جو جنگلاتی وسائل پر مسلسل دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔بڑے پیمانے پر شجرکاری کی یہ مہم جنگلات کے رقبے میں اضافے، تباہ حال زمینوں کی بحالی اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں ملک کی استعداد بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔رپورٹ کے مطابق درختوں کے احاطے میں اضافہ ماحولیاتی نظام کی بہتری، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مٹی کے کٹاؤ میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کی قومی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری نے صوبائی اور علاقائی حکومتوں کے تعاون سے شجرکاری کی متعدد سرگرمیاں انجام دیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں آنے والی موسمیاتی آفات کے بعد موسمیاتی موافقت اور ماحولیاتی تحفظ قومی پالیسی کی اہم ترجیحات بن چکے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس بات کو اجاگر کیا کہ شدید موسمی واقعات سے ہونے والے نقصانات کم کرنے کے لیے ماحولیاتی نظم و نسق اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔پاکستان نے جنگلات کے فروغ اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کو اپنے وسیع تر موسمیاتی وعدوں اور پائیدار ترقی کے اہداف کا بھی حصہ بنایا ہے تاکہ طویل المدتی ماحولیاتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔








