موجودہ بجٹ متوازن، جامع اور غریب دوست ہے، یہ وزیراعظم کی بہترین معاشی حکمت عملی کا ثبوت ہے: شمائلہ رانا
موجودہ بجٹ متوازن، جامع اور غریب دوست ہے ، شمائلہ رانا

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی شمائلہ رانا نے موجودہ بجٹ کو ایک متوازن، جامع اور غریب دوست دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کٹھن معاشی حالات میں ایسا بجٹ تیار کرنا جو مزدور، کسان، عام شہری اور سرمایہ دار سمیت معاشرے کے ہر طبقے کیلئے یکساں مفید ہو، وزیرِ اعظم کی بہترین معاشی حکمت عملی اور عوامی درد مندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اتوار کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم این اے شمائلہ رانا نے کہا کہ اس بجٹ کا بنیادی مقصد ملک میں سرمایہ کاری کے دروازے کھولنا ہے تاکہ نجی شعبہ ترقی کرے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے اور وسیع مواقع پیدا ہو سکیں۔ رکنِ قومی اسمبلی شمائلہ رانا نے کہا کہ حکومت نے عام آدمی پر بوجھ کم کرنے کے لیے کئی بڑے اور تاریخی فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ توانائی کے بحران سے نمٹنے اور کلین انرجی کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے سولر پینلز پر عائد تمام ٹیکسوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، جس سے عام شہریوں کو سستی بجلی کے متبادل ذرائع حاصل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے شعبے ‘زراعت’ کو بڑی رعایت دیتے ہوئے زرعی محنت اور اس سے وابستہ امور پر بھی ٹیکسز کا خاتمہ کر دیا گیا ہے تاکہ کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور کاروباری شعبے میں تیزی لانے کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو مکمل طور پر ختم کیا گیا ہے اور پراپرٹی ایویلیوایشن ٹیکس میں بھی بڑی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے اوورسیز پراپرٹی ٹیکسز کا خاتمہ کیا گیا ہے، جبکہ ملکی تجارت اور درآمدات و برآمدات کو آسان بنانے کے لیے شپنگ پر عائد 18 فیصد بھاری ٹیکس کو بھی یکسر ختم کر دیا گیا ہے۔ شمائلہ رانا کا کہنا تھا کہ ان تمام ٹیکسوں کو ختم کرنا ایک ایسے وقت میں انتہائی جرات مندانہ اقدام ہے جب دنیا بھر کی معیشتیں دبا کا شکار ہیں۔عالمی معاشی اور سیاسی تناظر پر بات کرتے ہوئے شمائلہ رانا نے کہا کہ موجودہ دور میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث پوری دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور عالمی منڈی میں تیل کا بحران پیدا ہوا، تب بھی موجودہ حکومت نے اپنی عوام کو تنہا نہیں چھوڑا۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے عالمی اثرات سے غریب عوام کو بچانے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز فراہم کیں تاکہ مہنگائی کا بوجھ براہِ راست عام آدمی پر نہ پڑے۔ انہوں نے اپوزیشن ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ تنقید برائے تنقید اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے بجٹ کے حوالے سے تعمیری اور مثبت تجاویز پیش کریں تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔








