بلوچستان کے حالات سنجیدہ بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں، بھارت کے خلاف جنگ میں کامیابی اور امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی قابل تعریف ہے، مولانا عبدالغفور حیدری

بلوچستان کے حالات سنجیدہ بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں، بھارت کے خلاف جنگ میں کامیابی اور امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی قابل تعریف ہے، مولانا عبدالغفور حیدری

اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):جمیعت علمائے اسلام کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات سنجیدہ بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں، بھارت کے خلاف جنگ میں کامیابی اور امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی قابل تعریف ہے، ان دو اقدامات نے پاکستان کو بلندی پر پہنچا دیا ہے، ہمیں اپنے ملک کے اندرونی حالات کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ پیر کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موٹروے ہرجگہ بن رہے ہیں، بلوچستان میں ایک کلومیٹر موٹروے نہیں ہے، ژوب سے کراچی شاہراہ کا تین بار سنگ بنیاد رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لئے ترقیاتی بجٹ میں کتنے منصوبے ہیں، کوئی میگا پراجیکٹ نہیں، میرے حلقہ کے لئے کوئی منصوبہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کی مصالحت میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں، اس سے قبل انڈیا کے خلاف جنگ میں قد بڑھا۔ عالمی سطح پر ملنے والی یہ عزت قابل تعریف ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود اندرون سطح پر حالات درست نہیں، بلوچستان میں میرے حلقے میں بنیادی سہولیات نہیں ہیں، یہ سنجیدہ مسائل ہیں،ہم چار بھائی ہیں اور پنجاب بڑا بھائی ہے،وہاں کی طرح دیگر علاقوں میں بھی ترقیاتی کام ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں بدامنی ہے، لک پاس کے پاس کسٹم کا وئیر ہائوس جل گیا، کوئٹہ شہر میں ٹرین پر حملہ میں سینکڑوں مسافر شہید ہوئے ہماری رٹ کہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دل دکھتا ہے، اس جانب توجہ مرکوز کی جائے۔ بلوچستان کی صورتحال کا کسی کو ادراک نہیں،سنجیدہ مذاکرات سے امن کا راستہ نکالا جائے۔