قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، محسن نقوی
قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، محسن نقوی

مزید خبریں
لاہور۔15جون (اے پی پی):چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈمحسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری بورڈ کی اولین ترجیح ہے اور قومی ٹیم کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی فزیکل فٹنس کی حمایت کرتے ہیں اور فٹنس کو بہتر کارکردگی کے لیے بنیادی عنصر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ ا نہوں نے کہا کہ قومی ٹیم دو طرفہ سیریز میں بہتر کھیل پیش کرتی ہے، تاہم بڑے ٹورنامنٹس میں ٹیم کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہتی اور اکثر ٹیم دباو کا شکار ہو کر کولیپس کر جاتی ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
چیئرمین نے سلیکشن کمیٹی کے نئے طریقہ کار اور ڈیٹا پر مبنی نظام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کے پاس بہت کام ہے۔ اس موقع پر پی سی بی کے سی او سمیر احمد، قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائک ہیسن، پی سی بی میڈیکل پینل کے سربراہ جاوید مغل، چیئرمین پی سی بی کے ایڈوائزر بلال افضل اور سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کام 70 برسوں سے ہو رہا تھا تو ان کے علم میں نہیں ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں کس نے ٹیسٹ اور ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی، اس تمام ریکارڈ کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی اے آئی سسٹم نہیں بلکہ ڈیٹا پر مبنی نظام ہے اور اس میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ اس سسٹم کی پذیرائی کی جانی چاہیے کیونکہ اس کا مقصد شفافیت، میرٹ اور انصاف کو یقینی بنانا ہے۔چیئرمین پی سی بی نے یونس خان کو بورڈ میں عہدہ دئیے جانے سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس حوالے سے میڈیا سے ہی معلوم ہوا ہے ۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ یونس خان کو کسی عہدے پر تعینات کرنے کے حوالے سے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے سابق کرکٹرز سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق محمد حفیظ، یونس خان اور دیگر سابق کھلاڑیوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کے تجربے اور تجاویز سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور قومی کرکٹ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اس موقع پر پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے سینٹرل کنٹریکٹ کے نئے نظام پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کھلاڑیوں کو مختلف کیٹیگریز دئیے جانے پر اکثر اعتراضات سامنے آتے تھے اور یہ سوال اٹھایا جاتا تھا کہ کسی کھلاڑی کو بی یا سی کیٹیگری کیوں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت سینٹرل کنٹریکٹ کا تقریبا 85 فیصد حصہ ڈیٹا اور کمپیوٹرائزڈ تجزیے کی بنیاد پر طے کیا جائے گا، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ کے اعداد و شمار کو بھی اس عمل میں شامل کیا جا رہا ہے۔
عاقب جاوید کے مطابق ماضی میں بعض اوقات کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہو جاتی تھی، تاہم نئے نظام کا مقصد شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ میں فٹنس کو بنیادی اہمیت دی جائے گی اور کھلاڑیوں کے لیے متوازن اور منصفانہ نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ نئے سینٹرل کنٹریکٹ ڈھانچے میں ٹیسٹ کرکٹ کو اے کیٹیگری میں رکھا گیا ہے تاکہ طویل فارمیٹ کی اہمیت کو برقرار رکھا جا سکے۔







