سٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، حقیقی جی ڈی پی 3.7 فیصد بڑھی

سٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، حقیقی جی ڈی پی 3.7 فیصد بڑھی

اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاہے،جاری مالی سال میں حقیقی جی ڈی پی 3.7 فیصد بڑھی، مہنگائی میں بتدریج کمی کا امکان ہے۔پیرکوسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعدجاری ہونے والے بیان کے مطابق زری پالیسی کمیٹی نے اپنے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، کمیٹی نے محسوس کیا کہ جغرافیائی و سیاسی صورتِحال میں حالیہ مثبت پیشرفت کے بعد تیل کی عالمی قیمتیں کم ضرور ہوئی ہیں، تاہم وہ تنازعہ سے قبل کی سطح سے اب بھی بلند ہیں۔ اس سے قطع نظر، جیسا کہ زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس نے توقع ظاہر کی تھی، تنازعہ کے اثرات اب اقتصادی اظہاریوں میں ظاہر ہونے لگے ہیں۔

عمومی مہنگائی اپریل اور مئی میں بڑھ کر دو ہندسی ہوگئی جبکہ قوزی مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا۔ مزید برآں اقتصادی سرگرمیوں میں اعتدال کی چند علامات دکھائی دے رہی ہیں، جو بلند قیمتوں، کفایت شعاری کے اقدامات اور اقتصادی غیر یقینی صورتِ حال کے اثرات کی عکاس ہیں۔ دریں اثنا، بیرونی کھاتے کا دباؤ معتدل رہا ہے۔ سامنے آنے والی اس پیش رفت اور خطرات کے اثرات کا تجزیہ کرتے ہوئے زری پالیسی کمیٹی نے رائے دی کہ کمیٹی کے گذشتہ اجلاس سے اب تک میکرو اکنامک منظرنامہ بڑی حد تک جوں کا توں ہے۔

اس تناظر میں کمیٹی نے نتیجہ نکالا کہ موجودہ زری پالیسی موقف وسط مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رکھنے کے لئے موزوں ہے۔ کمیٹی نے گذشتہ اجلاس کے بعد جو اہم پیشرفت محسوس کی، وہ یہ ہے۔ پہلی، پاکستان دفتر شماریات کی جانب سے مالی سال 26ء کے لیے حقیقی جی ڈی پی کا عبوری تخمینہ 3.7 فیصد لگایا گیا ہے۔ دوسری، احساسات کے تازہ ترین سروے میں صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کے اعتمادمیں معمولی بحالی آئی ہے، جبکہ ان کی مہنگائی کی توقعات بھی کسی حد تک نرم ہوئی ہیں۔ تیسری، آئی ایم ایف کے ای ایف ایف اور آر ایس ایف جائزوں کی کامیاب تکمیل کے ساتھ جاری خریداریوں نے 5جون 2026ء تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھا کر 17.2 ارب ڈالر کر دیے۔

چوتھی، حکومت نے مالی سال 26ء کے بنیادی توازن کا سرپلس جی ڈی پی کے 2.5 فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ مالی سال 27ء کے لئے سرپلس جی ڈی پی کے 2.0 فیصد تک لانے کو ہدف بنا رہی ہے۔ آخر ی، مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کے اثرات کئی معیشتوں کے میکرو اکنامک حالات پر مرتب ہونے لگے ہیں، اور مرکزی بینکوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اپنے پالیسی ریٹس میں اضافہ شروع کر دیا ہے۔ بیان کے مطابق زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازعہ کے باوجود پیش بین زری پالیسی اور مستقل مالیاتی یکجائی پر مبنی فعال میکرو اکنامک انتظام نے جاری کُلی معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔

کمیٹی قیمتوں کے استحکام کا اپنا ہدف حاصل کرنے کے لئے پُرعزم ہے اور موصولہ اعداد و شمار اور بدلتی ہوئی صورتِ حال کی بغور نگرانی کرے گی۔ کمیٹی نے یہ بھی اعادہ کیا کہ رسدی دھچکوں کے مقابلے میں معیشت کی مزاحمت کو مضبوط بنانے، پیداواری صلاحیت میں اضافے، اور بلند تر اور زیادہ پائیدار معاشی نمو کے لیے درکار حالات پیدا کرنے کی غرض سے ساختی اصلاحات کی رفتار تیز کرنا ناگزیر ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان دفترِ شماریات کے عبوری تخمینوں کے مطابق مالی سال 26ء میں حقیقی جی ڈی پی 3.7 فیصد بڑھی جو مالی سال 25ء میں 3.2 فیصد رہی تھی۔

زری پالیسی کمیٹی کی رائے تھی کہ ان اعدادوشمار (outturn) سے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع اور کفایت شعاری کے اقدامات کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں، کیونکہ یہ تنازع شروع ہونے سے پہلے نمو کی رفتار خاصی زیادہ تھی۔ خدمات اور صنعت کے شعبے مالی سال 26ء میں نمو کا بنیادی سبب بنے جبکہ اس میں زراعت کا حصہ بھی نمایاں رہا۔ جولائی تا مارچ مالی سال 26ء کے دوران بڑے پیمانے کی اشیا سازی نے 6.5 فیصد کی مضبوط نمو دکھائی، اگرچہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں نمو معتدل ہونے کی توقع ہے، جیسا کہ بلند تعدد کے بعض اظہاریوں میں حالیہ رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے۔ زری پالیسی کمیٹی نے مستقبل پر نظر ڈالتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے اثرات اگلے مہینوں کے دوران صنعت اور خدمات کے شعبوں میں سرگرمیوں کو معتدل بناتے رہیں گے۔

اس کے علاوہ موسم کی دشواریوں کے درمیان خریف کی فصلوں کے بارے میں ابتدائی اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ زرعی شعبے کی کارکردگی ماند رہے گی جس کا اثر مالی سال 27ء میں نمو کے منظرنامے پر پڑ سکتا ہے۔ بیان کے مطابق اپریل میں جاری کھاتے میں 0.3 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا، جس کے نتیجے میں جولائی تا اپریل مالی سال 26ء کے دوران مجموعی خسارہ 0.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس کی بنیادی وجہ اپریل میں توانائی کی درآمدات بڑھنے کے سبب تجارتی خسارے میں اضافہ تھا جس نے کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی مضبوط کارکردگی کے مثبت اثرات کو زائل کر دیا۔

مئی میں ترسیلاتِ زر کی خاطر خواہ وصولی کے بعد امکان ہے کہ مشکل بیرونی معاشی حالات کے باوجود مالی سال 26ء میں جاری کھاتے کا خسارہ سابقہ تخمین شدہ حد کی نچلی سطح تک محدود رہے گا۔ فنانسنگ کے لحاظ سے سرکاری ذرائع سے آنے والی رقوم میں اضافہ بیرونی واجبات کی ادائیگی میں اہم معاون ثابت ہوا۔ ان تبدیلیوں سے اسٹیٹ بینک کے لیے زرمبادلہ کی خریداری اور زرمبادلہ ذخائر بڑھانے میں مدد ملی، جو توقع ہے کہ جون 2026ء کے اختتام تک 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

اگرچہ مالی سال 27ء میں جاری کھاتے کا خسارہ کچھ بڑھنے کی توقع ہے، تاہم زری پالیسی کمیٹی کی رائے تھی کہ زرمبادلہ کی خریداری اور منصوبہ بند سرکاری رقوم کی بروقت وصولی کے باعث زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ بیان کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 26ء کے دوران مالیاتی سرگرمیوں کے اعداد و شمار کے مطابق، مالیاتی یکجائی کی کوششیں بڑی حد تک درست سمت میں جاری رہیں، جس کی بنیادی وجہ اخراجات میں کمی تھی۔ تاہم، گذشتہ سال کی اسی مدت کی نسبت محاصل کی نمو معتدل رہی۔ اس تناظر میں، ایف بی آر نے مالی سال 26ء کا اپنا ہدف کم کرکے تقریباً 13 ٹریلین روپے کردیا۔ محاصل کے ہدف میں اس کمی کے باوجود حکومت کو توقع ہے کہ وہ اخراجات کو قابو میں رکھتے ہوئے جی ڈی پی کا 2.5 فیصد سرپلس پرائمری بیلنس حاصل کرلے گی۔

مالی سال 27ء کے لیے، پرائمری بیلنس سرپلس کے حوالیسے حکومتی ہدف جی ڈی پی کا 2.0 فیصد ہے۔ اس ضمن میں، زری پالیسی کمیٹی نے مالیاتی یکجائی جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ کمیٹی نے ساختی اصلاحات خصوصاً ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے اور سرکاری شعبے کے کاروباری اداروں (پی ایس ایز) کی اصلاح سے متعلق اقدامات کے بروقت نفاذ کی ضرورت پر بھی زور دیا،۔ بیان کے مطابق زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے، 29 مئی 2026ء تک زرِ وسیع (ایم ٹو) کی نمو کم ہو کر 14.3 فیصد سال بسال رہ گئی، جو 10 اپریل 2026ء کو 14.5 فیصد تھی۔ اس کمی میں تمام تر حصہ خالص ملکی اثاثوں میں تخفیف کا ہے، جو بینکوں سے خالص میزانی قرض گیری (net budgetary borrowing) میں کمی ظاہر کرتا ہے۔

دریں اثنا، جاری سرمائے، معینہ سرمایہ کاری اور صارفی قرضے بڑھنے کے باعث نجی شعبے کے قرضوں میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی پوزیشن میں بہتری خالص بیرونی اثاثوں میں اضافے پر منتج ہوئی۔ واجبات کے حوالے سے، زیرِ گردش کرنسی کی نمو میں اضافہ ہوا، جو عید سے متعلق رقوم نکلوانے کے موسمی اثر کو جزواً ظاہر کرتا ہے، اس کے نتیجے میں کرنسی اور ڈپازٹ کا باہمی تناسب بڑھ گیا۔ بیان کے مطابق عمومی مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا جو مارچ کے 7.3 فیصد کے مقابلے میں اپریل میں بڑھ کر سال بہ سال 10.9 فیصد اور مئی میں 11.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اساسی اثر (base effect) پست ہونے کے علاوہ، مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے توانائی کی ملکی قیمتیں بڑھا کر براہ راست، اور نقل و حمل اور پیداواری لاگت بڑھا کر بالواسطہ طور پر مہنگائی میں اضافہ کرنے میں کردار ادا کیا۔

مؤخر الذکر عامل کے نتیجے میں قوزی مہنگائی بھی بڑھ کر اپریل میں 8.2 فیصد اور مئی میں 8.7 فیصد ہوگئی۔ مزید برآں، گندم اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے نے گذشتہ دو ماہ کے دوران غذائی مہنگائی میں نمایاں اضافہ کیا۔ زری پالیسی کمیٹی کا تجزیہ تھا کہ مہنگائی آئندہ چند ماہ تک دہرے ہندسوں میں برقرار رہ سکتی ہے، جس کے بعد اس میں بتدریج کمی کا امکان ہے۔

تاہم یہ منظرنامہ متعدد خطرات سے مشروط ہے جن میں جغرافیائی و سیاسی پیش رفت، ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے کی مقامی قیمتوں پر منتقلی، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ردوبدل کی مقدار، مالیاتی خسارے میں ممکنہ اضافے اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں کے باعث غذائی اجناس کی قیمتوں سے متعلق غیر یقینی صورتِحال شامل ہیں۔