وفاقی محتسب میں تنازعات کے غیر رسمی حل پروگرام پر چار روزہ ورکشاپ کا آغاز

وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے کہا ہے کہ تنازعات کے غیر رسمی حل (Informal Resolution of Disputes – IRD) کا پروگرام شکایات کے فوری اور مؤثر ازالے کے لئے ایک انقلابی اقدام ہے جو پیچیدہ سرکاری طریقہ کار سے گزرے بغیر باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کو ممکن بناتا ہے

اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے کہا ہے کہ تنازعات کے غیر رسمی حل (Informal Resolution of Disputes – IRD) کا پروگرام شکایات کے فوری اور مؤثر ازالے کے لئے ایک انقلابی اقدام ہے جو پیچیدہ سرکاری طریقہ کار سے گزرے بغیر باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کو ممکن بناتا ہے۔وہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں آئی آر ڈی پروگرام کے حوالے سے منعقدہ چار روزہ ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ورکشاپ میں وفاقی محتسب کے علاقائی دفاتر کے افسران نے آن لائن شرکت کی۔وفاقی محتسب نے کہا کہ آئی آر ڈی پروگرام فریقین کے باہمی اتفاق کے ذریعے شکایات کے حل کے لئے متعارف کرایا گیا تھا جسے مزید مؤثر بنانے کے لیے ازسرنو مرتب کیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پروگرام سے تنازعات کے جلد اور خوش اسلوبی سے تصفیے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد مسائل کے حل کے کلچر کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔ آئی آر ڈی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ انتظامی تاخیر اور طریقہ کار کی رکاوٹوں سے بالاتر ہو کر بات چیت اور باہمی تعاون کے ذریعے تنازعات کو مؤثر انداز میں حل کیا جائے۔نوید کامران بلوچ نے کہا کہ اس پروگرام سے بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہنے والے عوام کو فائدہ پہنچے گا اور انہیں شکایات کے فوری ازالے کی بہتر سہولت میسر آئے گی۔ ورکشاپ سے وفاقی محتسب کے سیکرٹری علی طاہر، سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر سید آصف حسین، رجسٹرار ڈاکٹر ارم انجم، ایڈوائزر ارشد محمود چیمہ اور ڈائریکٹر جنرل محمد اشفاق احمد نے بھی خطاب کیا۔ واضح رہے کہ دفتر وفاقی محتسب کے قیام کے آرڈر 1983ء کے آرٹیکل 33 کے تحت محتسب اور اس کے عملے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ باقاعدہ کارروائی کے بغیر مفاہمت اور باہمی رضامندی کے ذریعے شکایات کا تصفیہ کر سکیں۔