چاروں صوبوں کی مساوی ترقی سے ہی پاکستان خوشحال ہو سکتا ہے ، مہنگائی کے تناسب سے کم آمدنی والے افراد کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، اراکین قومی اسمبلی کا بجٹ بحث میں اظہار خیال
چاروں صوبوں کی مساوی ترقی سے ہی پاکستان خوشحال ہو سکتا ہے ، مہنگائی کے تناسب سے کم آمدنی والے افراد کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، اراکین قومی اسمبلی کا بجٹ بحث میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں اراکین نے کہا ہے کہ چاروں صوبوں کی مساوی ترقی سے ہی پاکستان خوشحال ہو سکتا ہے، آبادی میں تیزی سے ہونے والا اضافہ پاکستان کیلئے خطرناک ہے، مہنگائی کے تناسب سے کم آمدنی والے افراد کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، محنت کش کی کم سے کم تنخواہ 60 ہزار روپے مقرر کی جائے، جس طرح پاکستان نے معرکہ حق میں انڈیا کو شکست فاش دے کر اور اب امریکہ ایران جنگ بندی میں کردار ادا کر کے عالمی سطح پر اپنا مقام بنایا ہے اسی طرح معاشی میدان میں بھی ترقی کے سفر کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا، ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر خاص توجہ مرکوز کی جائے۔
پیر کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے رکن رمیش لال نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں، کمیونٹی ہالوں اور فلاح و بہبود سے متعلق انفراسٹرکچر کے لئے ترقیاتی فنڈز کی تخصیص کی حکومتی کاوشوں کو سراہا۔ ترقیاتی فنڈز میں اضافے کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ مالی سال میں ان اقدامات کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ اقلیتی برادری کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔
انہوں نے شہریوں کے مہنگائی اور معمول کے بڑھتے ہوئے اخراجات خاص طور پر مہنگائی کے دبائو اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سمیت درپیش معاشرتی و معاشی چیلنجز کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے تجویز دی کہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ کم آمدنی والے گروپس پر مالی دبائوکم کیا جا سکے۔ نیشنل پارٹی کے رکن پولین بلوچ نے وفاقی بجٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ملک کی سول و ملٹری قیادت کی تعریف کی کہ انہوں نے مشکل قومی حالات میں ایک "تاریخی” بجٹ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس میں وسیع قدرتی وسائل اور معاشی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی استحکام اور ترقی، بلوچستان کی ترقی سے وابستہ ہے، صوبے کی محرومی محض ایک تاثر نہیں بلکہ مختلف رپورٹس میں بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے جو کئی اضلاع میں عدم ترقی کو نمایاں کرتی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کی رکن قومی اسمبلی مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ پیداواری شعبوں کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہے جو روزگار پیدا کر سکیں اور طویل المدتی استحکام لا سکیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ انفراسٹرکچر کی خامیاں ملک کی معاشی صلاحیت کو محدود کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی کو انسانی ترقی، علاقائی توازن اور ادارہ جاتی جوابدہی کو ترجیح دینی چاہئے ، قلیل المدتی بیانیے کی بجائے معاشی منصوبہ بندی شہریوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہونی چاہئے۔ اپوزیشن رکن محمد مبین عارف نے کہا کہ اگرچہ وزیراعظم نے معاشی بحالی اور ریونیو میں توسیع کے بارے میں پراعتماد بات کی مگر ٹیکس جمع کرنے اور ریونیو بڑھانے کے کئی اعلان کردہ اہداف غیر معقول نہیں لگتے ۔ انہوں نے کہا کہ بغیر صنعتی پیداوار اور کاروباری حالات میں بہتری کے یہ اہداف حاصل کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے بجلی کے بڑھتے ہوئے ٹیرف اور صنعتی شعبے کے لئے محدود ریلیف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بار بار دعوئوں کے باوجود کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، صنعتوں اور کاروباروں کو کوئی معنی خیز ریلیف نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ زیادہ توانائی کی قیمتیں مینوفیکچرنگ کو مشکل بنا رہی ہیں اور معاشی مسابقت کو روک رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن سید ابرار علی شاہ نے ملک کی سول اور ملٹری قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں سے ایران امریکہ جنگ بندی معاہدے نے ایک بڑے عالمی بحران کو روکا۔
انہوں نے مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا اور فرض کی راہ میں جان دینے والے شہدا ء کو سلام پیش کیا۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت، کارکنوں اور بانی رہنمائوں بشمول ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی تعریف کی اور ان کی جمہوریت اور عوامی حقوق کی جدوجہد کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم باب قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے وفاق کو مضبوط کرنے اور جمہوری اقدار کو فروغ دینے کے لئے مسلسل کام کیا ہے،پارٹی گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں عوامی خدمت کے اپنے ریکارڈ کی بنیاد پر مضبوط عوامی حمایت سے لطف اندوز ہوتی رہے گی۔وفاقی بجٹ 2026-27 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دستاویز مشکل قومی حالات میں تیار کی گئی ہے اور اس میں کافی محنت جھلکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کم آمدنی والے گروپس خاص طور پر تنخواہ دار افراد کے لئے محدود ریلیف دیا گیا ہے، تنخواہوں میں معمولی اضافہ تقریباً سات فیصد موجودہ معاشی حالات میں ناکافی ہے۔ انہوں نے مزید ریلیف اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ محنت کش خاندانوں کی مدد کی جا سکے اور زور دیا کہ مالی منصوبہ بندی میں عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ جے یو آئی (ف) کی رکن عالیہ کامران نے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے اور قومی آمدنی بڑھانے پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پیداواریت بڑھانے میں ناکام رہا ہے اور دالوں جیسے ضروری اشیائے خوردونوش کی درآمد جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے پیش نظر تنخواہ میں 7 فیصد اضافہ ناکافی ہے کیونکہ یہ کم آمدنی والے ملازمین کی خریداری کی طاقت میں کوئی معنی خیز بہتری نہیں لا رہا۔ اپوزیشن رکن عائشہ نذیر نے پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا کہ بنیادی اشیا جیسے آٹا، چینی، کھانے کا تیل، دودھ اور پینے کا پانی پر ٹیکس کم کئے جائیں تاکہ جدوجہد کر رہے گھرانوں کو فوری ریلیف مل سکے۔موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور سیلاب زدہ علاقوں میں موسمیاتی فنڈز کی تخصیص کے باوجود ہر سال تباہی کا سامنا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن )کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ وفاقی بجٹ مشکل عالمی اور ملکی حالات میں تیار کردہ متوازن اور عام طور پر سراہا جانے والا بجٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک ایک اہم سفارتی کامیابی کا مشاہدہ کر رہا ہے جس نے پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امور میں پاکستان کا کردار اب بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ کو متعدد شعبوں سے مثبت ردعمل ملا ہے۔انہوں نے بعض ٹیکسوں میں کٹوتی اور واپسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی حلقوں نے حکومت کی معاشی سمت کی بڑے پیمانے پر حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو زیادہ توجہ اور ریلیف کی ضرورت ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی ان پٹ لاگت کم کی جائے، بجلی کی ٹیرف کم کی جائے، کریڈٹ تک رسائی بہتر کی جائے، اور منصفانہ مارکیٹ میکانزم یقینی بنائے جائیں۔پاکستان کو زرعی ملک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسان غذا کی سلامتی اور معاشی استحکام کے مرکز ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ آبادی میں اضافہ، مہنگائی اور بے روزگاری کے ساتھ ملک کے سب سے سنگین طویل مدتی چیلنجز میں سے ایک ہے۔انہوں نے ماں اور بچے کی صحت پر مضبوط آگاہی اور پالیسی توجہ کا مطالبہ کیا اور ماں اور بچہ کی اموات کی شرح کم کرنے پر زور دیا، آبادی کے انتظام کو عوامی صحت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے انہوں نے مانع حمل اشیاء پر ٹیکس ختم کرنے کی تعریف کی اور وزیر اعلی مریم نواز کی قیادت میں پنجاب میں صحت کے اقدامات خاص طور پر کمیونٹی بیسڈ صحت پروگراموں کی تعریف کی جو صحت کی رسائی بڑھانے کے لئے ہیں۔
انہوں نے آبادی سے متعلق پالیسیوں میں بہتر وفاقی ہم آہنگی کا مطالبہ کیا تاکہ پورے ملک میں یکساں عملدرآمد ہو۔سیکورٹی چیلنجز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے خلاف پانچویں نسل کی جنگ اور ہائبرڈ وارفیئر کے بارے میں خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غلط معلومات کی مہموں کے ذریعے اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
سائرہ افضل تارڑ نے پاکستان کی ترقی، اتحاد اور خوشحالی کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور اعتماد کا اظہار کیا کہ اجتماعی کاوشیں ملک کو اس کے چیلنجز پر قابو پانے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل میں مدد دیں گی۔ پی پی پی پی رکن خورشید احمد جونیجو نے پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت کو قومی اور علاقائی سفارتی اور سیکورٹی کامیابیوں کا کریڈٹ دیا۔
انہوں نے اعلیٰ اور فوجی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے علاقائی اور بین الاقوامی تنائو کم کرنے میں تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سفارتی پوزیشن نے غیر مستحکم جیو پولیٹیکل صورتحال میں استحکام میں حصہ ڈالا ہے۔ آمنہ بتول نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں معاشرے کے معاشی طور پر کمزور طبقات سے لے کر تاجروں، سرمایہ کاروں اور کاروبار کے فروغ کیلئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں، حکومت نے ہر لحاظ سے ایک موزوں اور متوازن بجٹ دیا ہے۔
انہوں نے امریکا ایران معاہدے میں کلیدی کردار ادا کرنے پروزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ اس سے خطہ اور دنیا میں قیام امن کو ممکن بنانے میں مدد ملی، یہ معاہدہ پاکستان کی تاریخی سفارتی کامیابی ہے۔ آمنہ بتول نے کہا کہ وزیر اعظم ہنرمند سکیم کے تحت لاکھوں نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کی گئی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے، نوجوانوں کیلئے لیپ ٹاپ سکیم شروع کی گئی ہے ، اسی طرح نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کیلئے اقدامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گلوبل علی بابا اور دیگر بین الاقوامی کاروباری اداری پاکستان میں کام شروع کر چکے ہیں، حکومتی پالیسی کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی فری لانسرز ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ کمارہے ہیں۔








