مصر اور یورپی یونین کاقابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 690 ملین یورو کے مالیاتی پیکج کا اعلان

مصر اور یورپی یونین کاقابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 690 ملین یورو کے مالیاتی پیکج کا اعلان

قاہرہ۔16جون (اے پی پی):مصر اور یورپی یونین نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اپنی سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 690 ملین یورو کے مالیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد مصر کے بجلی کے نظام کو اپ گریڈ اور وسعت دینا ہے۔اماراتی نیوزایجنسی وام کے مطابق یہ پیکج یورپی انویسٹمنٹ بینک کے شعبہ ترقی ’’ای آئی بی گلوبل‘‘ کی جانب سے 600 ملین یورو کے قرض اور یورپی کمیشن کی جانب سے 90 ملین یورو تک کی گرانٹس پر مشتمل ہے۔

یہ منصوبہ سرکاری ملکیت والی کمپنی مصری الیکٹریسٹی ٹرانسمیشن کمپنی کی قیادت میں نافذ کیا جائے گا، جس کا ہدف 2030 تک مجموعی طور پر 22 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کو قومی گرڈ میں شامل کرنا ہے، جو تقریباً ایک کروڑ گھروں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے کافی ہوگا۔یہ سرمایہ کاری مصر کی قومی توانائی پالیسیوں اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور ملک کو خطے کے توانائی مرکز کے طور پر مستحکم کرنے کے وژن کی حمایت کرتی ہے۔ اس سے یورپی یونین اور مصر کے سٹریٹجک و جامع شراکت داری کے مقاصد بھی آگے بڑھیں گے، جن میں سرمایہ کاری میں اضافہ، قابلِ تجدید توانائی میں تعاون اور پائیدار توانائی نظام کی طرف منتقلی شامل ہے۔

مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ یہ معاہدہ مصر اور یورپی یونین کے درمیان مضبوط شراکت داری اور گرین ٹرانزیشن کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بجلی کے نظام کی جدید کاری، توانائی کے تحفظ اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا۔یورپی کمشنر برائے بحیرہ روم دوبراوکا شویتسا نے کہا کہ یہ منصوبہ پیکٹ فار دی میڈیٹیرینین کے تحت شروع کی جانے والی ٹرانس میڈیٹیرین رینیوایبل انرجی اینڈ کلین ٹیک کوآپریشن انیشی ایٹو کا حصہ ہے، جو مصر کے توانائی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور خطے میں اس کے کردار کو وسعت دینے میں مدد دے گا۔