محکمہ زراعت کی کپاس کے کاشتکاروں کوگرمی سے فصل بچانے کے لیے اہم ہدایات جاری

محکمہ زراعت فیصل آباد نے گرمی کی شدت میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر کپاس کے کاشتکاروں کو فصل کی بہتر دیکھ بھال کے حوالے سے ایک جامع ایڈوائزری جاری کی ہے۔

فیصل آباد۔ 16 جون (اے پی پی):محکمہ زراعت فیصل آباد نے گرمی کی شدت میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر کپاس کے کاشتکاروں کو فصل کی بہتر دیکھ بھال کے حوالے سے ایک جامع ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت عدیل احمد کہا کہ موجودہ موسمی حالات میں کپاس کی فصل انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہی ہے اور اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو پیداوار شدید متاثر ہو سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کپاس کو گرمی کے اثرات سے بچانے کے لیے ہر تین دن کے وقفے سے پانی لگانا ضروری ہے تاہم پانی دینے سے پہلے واٹر سکاؤٹنگ کے ذریعے فصل کی اصل ضرورت کا جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آبپاشی کے لیے شام یا رات کا وقت سب سے موزوں ہے کیونکہ اس وقت درجہ حرارت نسبتاً کم ہوتا ہے جس سے پانی کا ضیاع بھی کم ہوتا ہے اور فصل کو زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے خاص طور پر زور دیا کہ ایک ہی دفعہ زیادہ مقدار میں پانی دینے سے گریز کیا جائے، بلکہ وقفے وقفے سے ہلکی آبپاشی کو ترجیح دی جائے تاکہ پودوں کی جڑیں بھرپور طریقے سے خوراک جذب کر سکیں اور سانس لینے کا عمل بھی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر کپاس کی فصل سٹریس کا شکار ہو تو پوٹاشیم نائٹریٹ کا دو فیصد محلول بنا کر ہفتہ وار چار سپرے کیے جائیں جس سے پھول نکلنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور فصل دوبارہ بھرپور نشوونما کی طرف لوٹ آتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی ماہرین کی سفارش پر امائنو ایسڈ اور نشوونما کو تیز کرنے والے مرکبات کا سپرے کرنے سے نہ صرف پھل کا کیڑا قابو میں آتا ہے بلکہ پودے کی مجموعی صحت اور بڑھوتری میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔کیڑوں کی نگرانی اور تدارک کے بارے میں ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ کاشتکار ہفتے میں کم از کم دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ ضرور کریں تاکہ نقصاندہ کیڑوں کی بروقت شناخت ممکن ہو سکے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ اگر کسی کیڑے کا حملہ معاشی نقصان کی مقررہ حد سے تجاوز کر جائے تو فوری طور پر محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی زرعی ماہرین سے رابطہ کیا جائے اور انہی کے مشورے سے زرعی ادویات کا استعمال کیا جائے تاکہ غیر ضروری اخراجات سے بھی بچا جا سکے اور ماحول پر منفی اثرات بھی کم سے کم ہوں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے کسی بھی مشکل کی صورت میں فوری رہنمائی حاصل کریں تاکہ اس سال کپاس کی پیداوار کو بہترین سطح پر لایا جا سکے۔