وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ بھارت اگر ہمارا پانی بند کرے گا تو ہم اس کی سانس بند کر دیں گے، ملک کی ترقی، خوشحالی اور دفاع کیلئے ہم سب کو آپس میں اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا پڑے گا
بھارت اگر ہمارا پانی بند کرے گا تو ہم اس کی سانس بند کر دیں گے، ملک کی ترقی، خوشحالی اور دفاع کیلئے ہم سب کو آپس میں اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا پڑے گا، محمد حنیف عباسی
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ بھارت اگر ہمارا پانی بند کرے گا تو ہم اس کی سانس بند کر دیں گے، ملک کی ترقی، خوشحالی اور دفاع کیلئے ہم سب کو آپس میں اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا پڑے گا، ہمیں اپنے زیر تعمیر آبی ذخائر کے منصوبوں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنا ہو گا، آج دنیا میں پاکستان کو امن کے پیامبر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، پوری دنیا پاکستان پر اعتماد کررہی ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ دنیا کے نقشے پر کوئی ایسا ملک نہیں ہے جس پر پوری دنیا اعتماد کرتی ہو، آج وسط ایشیا، روس، چین، یورپی یونین، امریکا سمیت پوری دنیا پاکستان پر اعتماد کر رہی ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت کروائی اور ان کے درمیان معاملات طے کئے، بھائی کو بھائی سے نہیں لڑنے دیا۔ آج پوری دنیا پاکستان کو ثالث مانتی ہے اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں۔ حنیف عباسی نے کہا کہ اتنی بڑی کامیابی کے بعد پوری دنیا پاکستان کے گن گا رہی ہے، ایرانی سفیر نے گزشتہ روز ایران کا ایک نیا ترانہ مجھے بھیجا جو پاکستان سے ایران کی محبت میں بنایا گیا ہے۔ اس میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اوروزیر خارجہ کو امن کے پیامبر کے طور پر دکھایا گیا ہے جنہوں نے پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا۔ یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، اللہ نے پاکستانیوں نے اس عزت سے نوازا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ایک قوم بن جائیں۔ حنیف عباسی نے کہا کہ ہم نے بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں، ہم کسی سیاسی قیدی پر خوش نہیں ہیں تاہم یہ مکافات عمل ہے جب ہمارے رہنمائوں کو جیل میں بند کر کے قیدیوں کے لباس میں ان کی تصویریں منگوا کر یہ کہا جاتا تھا کہ یہ سلسلہ جاری رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب سیاست کرنی ہے تو پھر آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑے گا، پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش کے سیاسی کلچر میں ان چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے جیل کا ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ایک روز جیل میں کچھ لوگ آئے جنہوں نے قیدیوں کا یونیفارم پہنا ہوا تھا جبکہ ان کے ہاتھ میں دو یونیفارم تھے ان میں سے ایک مجھے دیکر کہا یہ پہن لیں میں نے کچھ دیر بات چیت کے بعد وہ لباس پہن لیا تو میری تصویر بنا کر مجھے کہا گیا کہ بے شک لباس اتار دیں کیونکہ وہ تصویریں کسی اعلیٰ شخصیت کو بھیجنی ہیں، ہم اس ماحول میں نہیں جانا چاہتے ، خوشی کا مقام ہے کہ آج جنیوا میں پاکستان عالمی ثالث کے طور پر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی ثالثی کر رہا ہے یہ عزت اللہ نے 10 مئی کی وجہ سے دی ہے جب اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح سے نوازا۔ اگر شاہینوں کی قیادت دلیر ہو تو پھر ٹینکوں کا ڈیزل اور جہازوں کا تیل ختم نہیں ہوتا بلکہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے اس معرکے میں انڈیا کو ناکوں چنے چبوائے اس نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ و برباد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ امور پر متحد ہونا پڑے گا جن کا تعلق مملکت خداداد پاکستان کی سالمیت سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر میاں نوازشریف تک ہر حکمران نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو جاری و ساری رکھا۔ 10 مئی کی فتح کے پیچھے جیسے جوانوں کی شہادت اور فضائیہ کے شاہینوں کی بے مثال کارکردگی ہے وہاں 1974ء میں ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بعد 28 مئی 1998ء کو اربوں ڈالر کی پیشکش رد کرتے ہوئے 6 دھماکے کرنے والے میرے لیڈر نوازشریف کا بھی کردار ہے۔ ان قربانیوں اور استقامت کی وجہ سے آج دنیا میں پاکستان کا ڈنکا بجھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان سرمایہ کاری کے حوالے سے دنیا کا محفوظ ترین ملک ہے، اس پر ہم اور ہماری نسلیں قربان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے شہر راولپنڈی میں پختون، بلوچ، کشمیری سب رہتے ہیں، کسی کی جرات نہیں کہ کوئی ان کو ہاتھ لگائے۔ یہاں پر اردو سپیکنگ بھی موجود ہیں یہ ان کا اپنا ملک ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جوہری قوت بنانے کیلئے کسی سول اور فوجی حکمران نے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ حنیف عباسی نے کہا کہ مجھے 25 سال قید کی سزا سنائی گئی لیکن میں نے رات کے اندھیرے میں کبھی پاکستان کا برا نہیں سوچا، نہ میرے بچوں دوستوں یا رشتہ داروں نے پاکستان کا برا سوچا۔ انہوں نے کہا کہ جو پاکستان کو نہیں مانے گا ہم اس کی نسلوں کو بھی نہیں مانیں گے ہمیں پاکستان مقدم ہے۔ جو بھی اختلاف کرے وہ پاکستان کو مقدم رکھ کر یہ اختلاف کرے جسے جو چیز چاہئے وہ بیٹھ کر مانگے ہم اسے دینے پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو باہر بیٹھ کر گالیاں دیں گے برا بھلا کہیں گے اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں آدھے سے زیادہ کشمیری ہوں، میرے گائوں اور آزاد کشمیر میں پارلیمنٹ سے راولپنڈی تک کا سفر ہے کشمیری ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں تاہم وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھیں جہاں پر قابض بھارتی فوج سے کشمیریوں کی مائیں ، بہنیں، بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں آج اگر آزاد کشمیر کے رہنے والے محفوظ ہیں تو وہ اسی پاکستانی فوج کی بدولت ہیں جو دنیا کی نمبر ون فوج ہے۔ کسی یورپی ملک یا امریکا میں کھڑے ہو کر پوچھیں کہ دنیا کی نمبرون فوج کون سی ہے تو وہ پاکستان کا نام لیں گے۔ ہمیں اس پر فخر کرنا چاہئے۔ حنیف عباسی نے کہا کہ دنیا میں آنے والی جنگیں پانی کے اوپر ہوں گی سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی نگرانی میں ہوا ہے اس کو یکطرفہ طور پر بھارت نے مئی 2025ء میں ختم کرنے کا اعلان کیا اور اس کے اوپر ڈیم بنانے شروع کئے تاکہ وہ پاکستان کے حصے کا پانی روک سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے اگر وہ ہمارا پانی روکے گا تو ہم اس کی سانس روکیں گے۔ اللہ نے ہمیں یہ صلاحیت اور طاقت دے رکھی ہے ، ہمیں یکجہتی اور اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہے اور جس کے دور میں بھی آبی ذخائر کی تعمیر کے منصوبے شروع کئے گئے ہیں ان کو مکمل کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آپس میں متحد ہو جائیں، چھوٹی چھوٹی چیزوں کو درگزر کریں تو پاکستان مثالی ملک بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان خیبرپختونخوا اور کشمیر کی سرحدوں کے اوپر جو لوگ جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ان کی عزت و ناموس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے۔









