گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے میں گیس سہولیات اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقدہوا
گورنر کی زیر صدارت خیبرپختونخوا میں گیس سہولیات اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے اجلاس
پشاور۔ 16 جون (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے میں گیس سہولیات اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقدہوا ۔تر جمان گورنر ہاوس پشاور کے مطابق اجلاس میں ایم ڈی سوئی نادرن گیس عامر طفیل نے دیگر حکام کے ہمراہ شرکت کی۔اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو سوئی ناردرن گیس حکام نے تفصیلی بریفنگ دی ۔اجلاس میں صوبے میں صنعتوں، سی این جی سٹیشنز اور گھریلو صارفین کو گیس فراہمی پر غور کیا گیا ۔
اجلا س میں متعلقہ حکام کی جا نب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے پاس تقریباً 40 ایم ایم سی ایف گیس دستیاب ہے، رشاکئی انڈسٹریل زون کیلئے 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختص ہے ۔بریفنگ کے مطابق صنعتی زونز کو الگ گیس لائن کے ذریعے بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گیس کی دستیابی سے صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا،صنعتوں کو خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سی این جی سیکٹر کے مسائل فوری حل کیے جائیں، 35 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی سی این جی سٹیشنز کو فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ صارفین کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے، گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے عوام کو براہ راست فائدہ ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کوٹ پالک گیس فیلڈ کی گیس درابن تک پہنچانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے،کوٹ پالک منصوبے میں مقامی افراد کو روزگار میں ترجیح دی جائے۔اجلاس میں ڈیرہ اسماعیل خان میں سوئی گیس سب آفس کے قیام پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ۔اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں سب آفس کے قیام کیلئے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا،پرانی اور بوسیدہ گیس پائپ لائنوں کی تبدیلی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے۔انہوں نے کہا کہ کورائی گیس منصوبے کا افتتاح جلد کیا جائے، گیس چوری کے سدباب کیلئے جاری اقدامات مزید موثر بنائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ گیس رائلٹی کا 50 فیصد حصہ گیس انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیا جائے،گیس پیدا کرنے والے علاقوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔









