امن مذاکرات میں خواتین کی شمولیت کو مؤثر اور مستقل بنایا جائے، اقوام متحدہ میں پاکستان کا مطالبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امن مذاکرات اور تنازعات کے حل کے عمل میں خواتین کی شرکت کو علامتی نمائندگی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مؤثر، بامعنی اور مستقل بنایا جائے، کیونکہ خواتین کے بغیر قائم ہونے والا امن دیرپا نہیں ہو سکتا۔

اقوام متحدہ ۔18جون (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امن مذاکرات اور تنازعات کے حل کے عمل میں خواتین کی شرکت کو علامتی نمائندگی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مؤثر، بامعنی اور مستقل بنایا جائے، کیونکہ خواتین کے بغیر قائم ہونے والا امن دیرپا نہیں ہو سکتا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خواتین، امن اور سلامتی کے موضوع پر سلامتی کونسل کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے خواتین کی دانش، قیادت اور عملی تجربات کو فیصلہ سازی کے ہر مرحلے میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے بغیر قائم ہونے والا امن کمزور بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی شمولیت سے ہونے والے امن معاہدے مقامی آبادی کی ضروریات سے زیادہ ہم آہنگ ہوتے ہیں اور طویل مدت تک برقرار رہنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ خواتین کی شرکت سماجی ہم آہنگی، تعلیم، صحت، روزگار، انصاف، مفاہمت اور شہریوں کے تحفظ جیسے اہم شعبوں کو مذاکرات کا حصہ بناتی ہے، جن کے بغیر حقیقی اور پائیدار امن ممکن نہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور علاقائی تنظیمیں اس امر کو یقینی بنائیں کہ ثالثی ٹیموں، مذاکراتی وفود اور امن کے فروغ سے متعلق اداروں میں خواتین کو اعلیٰ سطح پر مناسب نمائندگی حاصل ہو۔پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی شرکت محفوظ بھی ہونی چاہیے اور سلامتی کونسل کو خواتین کے خلاف حملوں کی روک تھام، احتساب اور محفوظ رابطہ کاری کے مؤثر نظام قائم کرنے کی حمایت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے امن و سلامتی کے ایجنڈے کو اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور اقوام کے حقِ خودارادیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ طویل تنازعات، غیر ملکی قبضے، غربت، امتیازی سلوک اور احتساب کے فقدان جیسے عوامل خواتین کے امن و سلامتی کے حقوق میں رکاوٹ بنتے ہیں۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ خواتین امن عمل میں صرف اپنی آواز شامل کرنے کے لیے نہیں آتیں بلکہ وہ خاندانوں، برادریوں اور آنے والی نسلوں کے مفادات کی نمائندگی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین سفارت کاری، امن مشنز، سیاست، سول سروس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستانی خواتین امن دستے اقوام متحدہ کے مختلف مشنز میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جرات کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

 

مزید خبریں